Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
149 - 415
سے نکاح کريں اورایک پرندہ اڑے توان میں سے ایک کہے اگریہ کواہوا تومیری بیوی کوطلاق ہے اوردوسراکہے اگریہ کوانہ ہوا تومیری بیوی کوطلاق ہے اورپرندے کامعاملہ مشتبہ رہے توجب تک ظاہر نہ ہوان میں سے کسی کی عورت کے حرا م ہونے کاحکم نہیں لگایاجائے گا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔

    (۳) اصل تو حرمت ہو لیکن اس پرایساحکم طاری ہو جوغالب گمان کے مطابق ا س کے حلال ہونے کو واجب کردے تویہ چیزمشکوک ہے اورغالب حکم حلال کاہی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ وہ شکار کی طرف تیرپھینکے تووہ غائب ہوجائے پھراسے وہ شکار مردہ حالت میں ملے اوراس پرتیرکے نشان کے علاوہ کوئی نشان نہ پایاجائے لیکن یہ احتمال ہے کہ وہ گرنے کی وجہ سے مرا ہے یاکسی دوسرے سبب سے ،اگرکسی صدمہ یا گرنے کاسبب ظاہر ہوجائے تواسے پہلی قسم کے ساتھ ملایاجائے گا،اس قسم میں امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے اقوال مختلف ہیں اورمختارقول یہی ہے کہ وہ حلال ہے۔

    (۴)اس کاحلال ہونامعلوم ہولیکن غالب گمان کے مطابق اس پرکوئی حرام والا سبب طاری ہوجائے جوشرعاً معتبر ہو پس استصحاب کمزورہونے کی وجہ سے ختم ہوجائے گا۔اورغالب گمان کے مطابق حکم لگایاجائے گا۔اس کی مثال یہ ہے کہ دو برتنوں کے متعلق اس کا غالب گمان ہوکہ ایک ناپاک ہے کسی ایسی علامت معینہ سے جوغالب گمان کوواجب کرتی ہے ،پس اس سے پینا حرام ہو گاجس طرح اس سے وضوکرناممنوع ہوتاہے۔
شبہ کادوسرامقام:
    شک کی ایسی صورت ہے جوحلال وحرام کے ملنے سے پیداہوتی ہے وہ اس طرح کہ حرام حلال کے ساتھ مل جائے اور معاملہ مشتبہ ہونے کی بنا پر تمیزنہ ہوسکے اوریہ باہم ملنایاتوایسی تعدادکے ساتھ ہوگاجو دونوں طرف سے یاایک طرف سے شمارمیں نہیں آتی یاوہ تعدادشمارمیں آسکتی ہے پھر اگروہ تعدادجوشمارمیں آسکتی ہے وہ شمارمیں آنے والی تعدادسے مل جائے توپھر باہم ملنا اس طرح ہوگاجس طرح مائع چیزیں ملتی ہیں یاباہم ملناابہام کے ساتھ ہوگاکہ تمیز ہو سکتی ہوجیسے غلام وغیرہ،اسے تین قسموں میں بیان کیاجاتاہے۔

    (۱)تعدادکے ساتھ ابہام پیداہوجائے جس طرح مرداردس ذبح کئے ہوئے جانوروں میں مل جائے یادودھ پلانے والی عورت دیگر دس عورتوں میں مل جائے تو اس سے بالاتفاق بچناواجب ہے کیونکہ اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں۔

    (۲)معدود حرام غیرمعدودحلال سے مل جائے جیسے دس دودھ پلانے والی عورتیں ایک بڑے شہرمیں مل جل جائیں
Flag Counter