سے نکاح کريں اورایک پرندہ اڑے توان میں سے ایک کہے اگریہ کواہوا تومیری بیوی کوطلاق ہے اوردوسراکہے اگریہ کوانہ ہوا تومیری بیوی کوطلاق ہے اورپرندے کامعاملہ مشتبہ رہے توجب تک ظاہر نہ ہوان میں سے کسی کی عورت کے حرا م ہونے کاحکم نہیں لگایاجائے گا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
(۳) اصل تو حرمت ہو لیکن اس پرایساحکم طاری ہو جوغالب گمان کے مطابق ا س کے حلال ہونے کو واجب کردے تویہ چیزمشکوک ہے اورغالب حکم حلال کاہی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ وہ شکار کی طرف تیرپھینکے تووہ غائب ہوجائے پھراسے وہ شکار مردہ حالت میں ملے اوراس پرتیرکے نشان کے علاوہ کوئی نشان نہ پایاجائے لیکن یہ احتمال ہے کہ وہ گرنے کی وجہ سے مرا ہے یاکسی دوسرے سبب سے ،اگرکسی صدمہ یا گرنے کاسبب ظاہر ہوجائے تواسے پہلی قسم کے ساتھ ملایاجائے گا،اس قسم میں امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے اقوال مختلف ہیں اورمختارقول یہی ہے کہ وہ حلال ہے۔
(۴)اس کاحلال ہونامعلوم ہولیکن غالب گمان کے مطابق اس پرکوئی حرام والا سبب طاری ہوجائے جوشرعاً معتبر ہو پس استصحاب کمزورہونے کی وجہ سے ختم ہوجائے گا۔اورغالب گمان کے مطابق حکم لگایاجائے گا۔اس کی مثال یہ ہے کہ دو برتنوں کے متعلق اس کا غالب گمان ہوکہ ایک ناپاک ہے کسی ایسی علامت معینہ سے جوغالب گمان کوواجب کرتی ہے ،پس اس سے پینا حرام ہو گاجس طرح اس سے وضوکرناممنوع ہوتاہے۔