Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
148 - 415
    تیسرادرجہ:جسے فتوی کی روسے حرام نہیں قراردیاجاتااوراس کے حلال ہونے میں بھی شبہ نہیں لیکن اس کی وجہ سے حرام کے ارتکاب کاخوف ہوتاہے اوریہ ایسی چیز کا چھوڑناہے جس میں کوئی حرج نہیں اس ڈرسے کہ حرج والی چیزمیں نہ پڑجائے۔

    چوتھادرجہ:وہ امورجن میں بالکل حرج نہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے حرج والے کاموں میں پڑنے کاخوف ہوتاہے لیکن وہ غیر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہوتے ہیں اورنہ ہی ان کے حصول سے عبادت خداوندی پرقوت حاصل کرنے کی نیت ہو تی ہے یاوہ چیز جو ان اسباب سے حاصل کی ہوجس میں کسی قسم کے حرام ہونے کی کراہیت یاگناہ ہوتوایسی چیزوں کوچھوڑنا صدّیقین کی پرہیزگاری ہے۔
شبہات کے مراتب کا بیان
    نبئ کریم رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے:''حلال بھی واضح ہے اورحرام بھی اوران کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شخص شبہات سے بچااس نے اپنی عزت اوردین کومحفوظ کرلیا اور جو آدمی شبہات میں پڑاوہ حرام میں پڑگیاجس طرح چرواہا ممنوع چراگاہ کے گرد (بکریاں)چراتاہے توقریب ہے کہ وہ اس میں چلاجائے ۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات ،الحدیث۴۰۹۴،ص۹۵۵،بتغیرٍ)
    درمیانی قسم:اس سے مرادشبہ ہے اوراس کی مثال یہ ہے کہ بارش کا پانی دوسرے کی ملکیت میں جانے سے پہلے قطعی طورپر حلال ہوتاہے اورشراب حرام محض ہے ۔شبہ پیدا ہونے کے پانچ مقامات ہیں: پہلا یہ کہ حرام اورحرام کرنے والے سبب میں شک واقع ہواوریہ اس بات سے خالی نہ ہوگاکہ یاتو دونوں احتمال برابرہوں گے یاایک احتمال دوسرے پرغالب ہوگااگر دونوں احتمال برابر ہوں توحکم پہلے سے معلوم صورت کے مطابق ہوگاپس استصحاب ہوگا۔۱؎ اوراگرایک احتمال غالب ہوتوحکم غالب کے مطابق ہوگا۔ پس اس کو ہم چاراقسام میں بیان کرتے ہیں۔

    (۱)اس کاحرام ہونامعلوم ہوپھرحلال کرنے والے سبب میں شک ہو۔اس کی مثال یہ ہے کہ وہ شکار پرتیرپھینک کراسے زخمی کردے پھروہ شکارپانی میں گرجائے اور اسے مردہ حالت میں ملے اوراسے معلوم نہ ہوکہ وہ ڈوبنے سے مرا یازخمی ہونے سے تویہ حرام ہے کیونکہ اس میں اصل حرمت ہے البتہ جب وہ کسی معین طریقے پر مرے اورمعین طریقے میں شک ہوگیا،تو یقین کو شک کے ذریعے ترک نہیں کیاجائے گا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔

ٍ    (۲)حلال ہونامعلوم ہواورحرام ہونے میں شک ہوتوحکم حلّت(یعنی حلال ہونے ) کاہے جس طرح دوآدمی دو عورتوں
۱؎:استصحاب سے مراد یہ ہے کہ ایک مسئلے کو دوسرے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے حکم لگانا۔ (التعریفات،ص۱۸)
Flag Counter