Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
147 - 415
مجھے دودھ دیاتھا(یہ سن کر)آپ اپنی انگلی منہ میں ڈال کرقئے کرنے لگے(راوی کہتے ہیں کہ)آپ نے ا س قدر قے کی کہ میں سمجھا آپ کی جان نکل جائے گی پھر عرض کیا: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جوکچھ رگوں نے اٹھایااورآنتوں میں مل گیااس سے تیری بارگاہ میں معذرت خواہ ہوں اور تجھ سے توبہ کرتاہوں۔ایک اورروایت میں ہے کہ یہ بات نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوبتائی گئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''کیا تمہیں معلوم نہیں کہ صدیق اپنے پیٹ میں ہمیشہ پاکیزہ چیزہی داخل کرتا ہے۔''
(صحیح البخاری ،کتاب مناقب الانصار ،باب ایام الجاھلیۃ ،الحدیث۳۸۴۲،ص۳۱۲، مختصرًا)
    حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی نمازقبول نہیں کرتاجس کے پیٹ میں حرام غذا ہو۔''

    حضرت سیِّدُنا سہل تُستَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادفرماتے ہیں: ''جوشخص چاہتاہے کہ اس پرصدّیقین کے حالات ظاہر ہوں وہ ہمیشہ حلال وپاک کھاناکھائے اورسنت اورضروری کام کے علاوہ کچھ نہ کرے۔''
حلال کے درجات:
    جانناچاہے !دارِ حرب سے لی جانے والی چیزیں حلال ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے لی جائیں۔اسی طرح شکارکے ذریعے یالکڑی جمع کرنے کے ساتھ جس کاوہ مالک ہویاجوچیزیں کانوں سے نکالی جاتی ہيں اورجوکچھ اہل حرب سے لیاجاتاہے وہ خمس (یعنی پانچواں حصہ) نکالنے کے بعدحلال ہوتاہے جبکہ وہ بادشاہ کی طرف سے جنگ کی صورت میں حاصل ہواورحدِ ضرر تک مٹی کھاناحرام ہے اوراس کے بارے میں ممانعت کاحکم واردہے جسے عمومِ تحریم سے جانا جاتاہے پس اس سے بچنابہترہے۔
حلال وحرام کے درجات:
    جانناچاہے ! حرام سارے کاسارا حرام ہے البتہ بعض دوسرے بعض کی نسبت زیادہ خبیث ہے اورحلال تمام کاتمام پاک ہے البتہ بعض حلال دوسرے بعض سے زیادہ پاک اورصاف ہوتاہے۔پس ان کے مختلف درجات ہیں۔

    پہلادرجہ: حرام میں سے پہلا اورسب سے کم درجہ وہ ہے کہ جس کے حرام ہونے کافقہاء نے فتوی دیاہواس سے بچنا ضروری ہے۔

    دوسرادرجہ:صالحین کاتقویٰ ہے یعنی ہر اس چیزسے بچنا جس میں حرام ہونے کااحتمال ہواگرچہ ظاہرکی بنیادپر مفتی اسے کھانے کی اجازت دے دے لیکن یہ منجملہ شبہ کے مقامات سے ہے۔
Flag Counter