Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
146 - 415
 پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیتعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''بیت المقدَّس پراللہ عَزَّوَجَلَّ کاایک فرشتہ ہے جوہررات پکارتاہے کہ جس نے حرام کھایا نہ اس کے نفل قبول ہیں نہ فرض۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب المیم ،الحدیث۶۲۶۳،ج۲،ص۳۰۰، مختصرًا)
    کہتے ہیں: ''صرف''سے مراد نفل اور' 'عدل''سے مرادفرض ہیں۔

    اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے: ''جوشخص دس درہم کے بدلے کپڑا خریدے اور اس کی قیمت میں ایک درہم حرام کاہو توجب تک وہ کپڑا اس پر ہو گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا ۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبداﷲ بن عمر بن الخطاب ،الحدیث۵۷۳۶،ج۲،ص ۴۱۶۔۴۱۷)
    حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
''کُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنَ الْحَرَامِ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ
 ترجمہ:ہروہ گوشت جوحرام سے پروان چڑھے آگ اس کے لئے بہتر ہے۔''
(جامع الترمذی ،ابواب السفر ،باب ماذکر فی فضل الصلاۃ ،الحدیث۶۱۴،ص۱۷۰۶،مفہوماً)
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے :
مَنْ لَّمْ یُبَالِ مِنْ اَیْنَ اِکْتَسَبَ الْمَالَ لَمْ یُبَالِ اللہُ تَعَالیٰ مِنْ اَیْنَ اَدْخَلَہُ النَّارَ۔
ترجمہ:جوشخص اس بات کی پرواہ نہیں کرتاکہ اس نے کہاں سے مال کمایاتواللہ عَزَّوَجَلَّ کواس بات کی پرواہ نہیں کہ وہ اسے جہنم کے کس دروازے سے داخل کرے ۔
(صحیح البخاری ،کتاب البیوع ،باب من لم یبال من حیث کسب المال ،الحدیث۲۰۵۹،ص۱۶۱، بدون من این ۔۔۔۔۔۔الخ)
    مرفوعاً اورموقوفاً حدیث مروی ہے کہ حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اَلْعِبَادَۃُ عَشَرَۃُ اَجْزَاءٍ فَتِسْعَۃٌ مِّنْہَا فِیْ طَلَبِ الْحَلَالِ۔
ترجمہ:عبادت کے دس حصے ہیں جن میں سے نو حصے طلبِ حلال میں ہیں۔
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب العین ،الحدیث۴۰۶۲،ج۲،ص۸۶، العبادۃ بدلہ العافیۃ)
    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ارشاد مبارک ہے:''جس شخص نے گناہ کے ذریعے مال حاصل کرکے اس سے صلہ رحمی کی یاصدقہ کیا یااسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کیاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس سب کے ساتھ جہنم میں ڈال دے گا۔''
   (مراسیل ابی داؤد ،باب زکوۃ الفطر ،ص۹،من روایۃ القاسم بن مخیمرہ، بتغیرٍ)
    ایک روایت میں ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام کی کمائی سے دودھ نوش فرمایاپھرغلام سے اس کے متعلق پوچھا تواس نے کہامیں نے ایک قوم کے لئے کہانت کی( یعنی انہیں جھوٹی خبریں دیں) توانہوں نے
Flag Counter