(المعجم الاوسط،الحدیث۸۶۱۰،ج۶،ص۲۳۱ ''فریضۃ'' بدلہ ''واجب'')
بعض لوگ جن پرکاہلی اورسستی حاوی ہے وہ اس طرف مائل ہیں کہ حلال باقی نہیں ہے اور ہرچیزمیں مفقودہے ان کایہ کہناجہالت ہے کیونکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکافرمانِ نصیحت نشان ہے:
اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَّالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَّبَیْنَہُمَا اُمُوْرٌ مُّتَشَابِہَاتٌ
ترجمہ: حلال واضح ہے اورحرام بھی اوران کے درمیان چندچیزیں مشتبہ ہیں۔
(صحیح البخاری ،کتاب البیوع ،باب الحلال بین والحرام بین وبینھما مشتبھات ،الحدیث۲۰۵۱،ص۱۶۰)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صَالِحًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزیں کھاؤاور اچھا کام کرو ۔(پ18،المؤمنون :51)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کافرمانِ حکمت نشان ہے:''جوشخص چالیس دن تک حلال رزق کھائے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دل کو روشن کردیتاہے اوراس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پرجاری فرما دیتاہے۔''اورایک روایت میں ہے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے دنیامیں پرہیزگاری عطا فرماتا ہے۔''
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاکریں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھےمُسْتَجَابُ الدَّعْوَات بنا دے۔'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
''اَطِبْ طُعْمَتَکَ تُسْتَجَبْ دَعْوَتُکَ
ترجمہ:اپنے کھانے کوپاکیزہ بناؤ تمہاری دعاقبول ہوگی۔''
(المعجم الاوسط ،الحدیث۶۴۹۵،ج۵، ص۳۴)
حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت میں ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت،