ایسا نہیں ہوناچاہے کہ تجارت تجھے اتنامشغول کردے کہ توصرف دنیامیں ہی نفع کاطالب ہو اور آخرت کے اصل مال کو ضائع کردے۔ اس صورت میں تُوواضح خسارہ پانے والاہوگا تجارت کرنے میں نیت، حلال کمانے، سوال سے بچنے اورمال حاصل کرنے کی ہونی چاہئے تاکہ تواس کے ذریعے طلب آخرت کے لئے فراغت پاسکے۔
جانناچاہئے !اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ عبادات اورفرض کفایہ مثلاًمیت کوغسل دینا،دفن کرنا،اذان اورنمازِتراویح پراُجرت لینا ناپسندسمجھتے تھے۔اگروہ اس طریقہ پرتجارت کرے جوہم نے ذکرکیاتودنیاکا بازاراسے بازارِآخرت یعنی مساجدسے غافل نہیں کریگا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہ
ترجمۂ کنزالایمان:وہ مردجنہیں غافل نہیں کرتاکوئی سودااورنہ خریدو فروخت اللہ کی یادسے۔ ِ (پ18،النور :37)
پس آدمی صبح سے چاشت تک مسجد میں رہے پھرنمازکے اوقات میں مسجدمیں جائے۔ پس جب بھی اذان کی آوازسنے تو معاملات دُنیوی کوچھوڑدے۔'' بعض بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم جب اذان سنتے اورانہوں نے ہتھوڑااٹھایاہواہوتاتواسے وہیں پر چھوڑ دیتے اورنہ مارتے۔''اوربازارمیں بھی دل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتارہے اس کے متعلق بہت سے فضائل ہیں۔چنانچہ،حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ فضیلت نشان ہے: ''جو بازار میں داخل ہوتے وقت یہ کلمات پڑھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتاہے:
لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِ وَیُمِیْتُ وَہُوَحَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدہِ الْخَیْرُوَہُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ترجمہ: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے اوراسی کے لئے حمدہے، وہ زندہ رکھتا اورمارتاہے، وہ خودزندہ ہے اس کے لئے موت نہیں،تمام بھلائی اسی کے اختیارمیں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،باب مایقول اذا دخل السوق، الحدیث۳۴۲۸،ص۲۰۰۵)
انسان کو چاہے کہ اپنے معاملات کاخیال رکھے یہاں تک کہ وہ کوئی ایساکام نہ کرے کہ جس سے بروزِ قیامت چھٹکارامشکل ہوکیونکہ عنقریب اس سے اس کے معاملات کامحاسبہ ہوگااوراس سے اس کی نیت اورلوگوں کے حقوق کا مطالبہ کیاجائے گاکہ اس نے اس کاخیال رکھایاضائع کردیا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔