Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
143 - 415
معاملات میں عد ل کرنے اورظلم سے بچنے کا بیان
    جانناچاہے ! بعض اوقات مفتی کسی معاملہ کے صحیح ہونے کافتوی دے دیتاہے لیکن وہ ظلم پرمشتمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ معاملہ کرنے والے سے ناراض ہوجاتاہے۔

    ان میں سے ایک قسم ذخیرہ اندوزی ہے اوریہ کھانے کی اشیاء میں ہوتی ہے اورذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنتی ہے او ر اس کے متعلق بہت سی سخت وعیدیں ہیں ان میں سے عیوب کوچھپانابھی ہے،بے شک ا یساکرنا خیانت ہے۔ان میں سے ترازو کا صحیح رکھنابھی ہے۔کیونکہ ترازودرست نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں اوراسی کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے :
وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿1﴾
ترجمۂ کنزالایمان : کم تولنے والوں کی خرابی ہے ۔(پ30، المطففین:1)

    پس تلبیس کی تمام ا قسام حرام ہیں چنانچہ ایسی چیزوں کی طرف بڑھناجائز نہیں جن کے خریدنے کاارادہ نہ ہو اور خریدنے والے کی ترغیب کے لئے بیچنے والے سے زیادہ قیمت کے ساتھ طلب کرے اورشہری کادیہاتی سے خریدنا بھی ممنوع ہے، اگر اس نے اپنے دوست یا اس کے بیٹے سے چھان بین کے بغیر کوئی چیزخریدی تواس کے لئے خریدنے والے سے ذکر کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ وہ اس کے خریدنے پربھروسہ نہ کرے ۔اسے چاہے کہ وہ احسان کرے اوروہ یہ کہ وہ دوسرے سے اتنی زیادہ قیمت وصول نہ کرے جو عام طور پر نہ لی جاتی ہو،اورخریدوفروخت میں نرمی برتنامستحب ہے۔

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالکُ و مختارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
رَحِمَ اللہُ اِمْرَأًسَھَّلَ الْبَیْعَ،سَھَّلَ الشِّرَاءَ، سَھَّلَ الْقَضَاءَ ،سَھَّلَ الْاِقْتِضَاءَ۔
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جوخریدوفروخت اورلین دین میں آسانی کرے ۔
(مسند ابی یعلی الموصلی ،حدیث رجل غیر مسمی عن النبی  ،الحدیث۶۷۹۵،ج۶،ص۵۰)
    پس جوشخص نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اس دعاکوغنیمت جانے اس کے معاملہ میں دنیا وآخرت کانفع ہے۔چنانچہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے:
مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِراً اَوْتَرَکَہ، حَاسَبَہُ اللہُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔
ترجمہ:جوکسی تنگدست کومہلت دے یابالکل معاف کردے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کاآسان حساب لے گا۔
(صحیح مسلم ،کتاب الزھد ،باب حدیث جابر۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۷۵۱۲،ص۱۱۹۷،مختصرًا)
    اگرکوئی سودا توڑناچاہے تواس کی بات مان لینابھی احسان ہے ۔
Flag Counter