Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
142 - 415
جاتی تھی اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مخلوق کے امور کوقائم فرماتے تھے۔
معاملات کی صحت کی شرائط:
    بیع کے تین ارکان ہیں:(۱)عاقد(یعنی عقدکرنے والا)(۲)معقودعلیہ(یعنی جس چیزپرعقدکیاجائے)(۳)الفاط(جوعقدمیں استعمال کئے جائیں)۔

    عقدکرنے والے کوچاہے کہ وہ ان چارقسم کے لوگوں سے سودانہ کرے:(۱)بچہ(۲)پاگل(۳)غلام اور(۴) اندھا۔ او ر کافرکے ساتھ بیع کرنا جائزہے لیکن قرآن پاک اورمسلمان غلام اسے نہیں بیچاجائے گااوراگرحربی ہوتواسے اسلحہ بھی فروخت نہیں کیاجائے گا۔اوروہ جانورجوکھائے نہیں جاتے ان کی چربی اورشراب کی خریدوفروخت نیزہاتھی کے دانتوں کی خرید و فروخت جائزنہیں۔۱؎ اوروہ تیل جونجاست کے گرنے سے ناپاک ہوجائے اس کوبیچناجائزہے۔کتے،کیڑے مکوڑوں اورسانپ کی خریدوفروخت جائزنہیں اورتصویروں والی چادریں بیچنااور استعمال کرناجائزہے۔

    تصویروں والی چادروں کے بارے میں شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشادفرمایا:
''اِتَّخِذِیْ مِنْہَا نَمَارِقَ
ترجمہ:ان کے بچھونے بنالو۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب المظالم ،باب ھل تُکْسَرُ الدِّنانُ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۲۴۷۹،ص۱۹۵،بتغیرٍ)
    اوران کولٹکاناجائزنہیں،البتہ! انہیں بچھاکراستعمال کرناجائزہے۔جس چیزکاسوداکیاجارہاہووہ بیچنے والے کی ملکیت میں ہواوراسے سپردکرنے پرقادرہو، دیکھی ہوئی ہواورایجاب وقبول کے لفظ استعمال کرنے چاہيں۔حقیرچیزوں اور کھائی جانے والی چیزوں(جیسے پھل وغیرہ)میں ایک یہ قول ہے جسے ابن سریج نے ذکرکیاہے کہ ان(معمولی چیزوں) میں عمومی حاجت ہونے کی وجہ سے ہاتھوں ہاتھ لین دین ہی کافی ہے(ایجاب وقبو ل کے الفاظ کی ضرورت نہیں)جہاں تک سودکاتعلق ہے تواس میں بہت زیادہ وعیدیں ہیں اس لئے اس سے بچناچاہئے۔بیع سلم جائز ہے۔اسی طرح اجارہ بھی جائزہے اوران کی شرائط کتب فقہ میں موجود ہیں وہاں سے مطالعہ کرلینا چاہئے۔
۱؎:احناف کے نزدیک :''ہاتھی دانت اورہڈی کوبیچ سکتے ہیں اور اس کی چیزیں بنی ہوئی استعمال کرسکتے ہیں۔''(رد المحتار،کتاب البیوع،مطلب فی التداوی۔۔۔۔۔۔الخ، ج۷،ص۲۶۷)
Flag Counter