Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
141 - 415
باب13:            کسبِ معا ش کے آداب
اس میں چندفصول ہیں:
    کسب معاش کی فضیلت کے بارے میں تاجدارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:
مِنَ الذُّنُوْبِ ذُنُوْبٌ لَا یُکَفِّرُھَا اِلاَّالْھَمُّ فِیْ طَلَبِ الْمَعِیْشَۃِ۔
ترجمہ :گناہوں میں سے بعض گناہ ایسے ہیں جنہیں طلب معاش کاارادہ ہی مٹاسکتاہے۔
 (المعجم الاوسط ،الحدیث۱۰۲،ج۱،ص۴۲،بتغیرٍ)
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ والاشان ہے:
اَلتَّاجِرُ الصُّدُوْقُ یُحْشَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاءِ۔
ترجمہ:سچاتاجر بروزِقیامت صدیقین اور شہدا ء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
(جامع الترمذی ،ابواب البیوع ،باب ماجاء فی التجار ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۱۲۰۹،ص۱۷۷۲،بدون:یحشر یوم القیامۃ)
    حدیث ِ مبارک میں ہے:
''اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ
ترجمہ:بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پیشہ اختیار کرنے والے مؤمن کو پسند کر تا ہے۔''
   (المعجم الاوسط ،الحدیث۸۹۳۴،ج۶،ص۳۲۷)
    سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :'' مجھے یہ وحی نہیں آئی کہ تم مال جمع کرکے تاجربن جاؤبلکہ مجھے یہ وحی کی گئی:
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ98﴾وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الْیَقِیۡنُ ﴿٪99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تواپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہواورمرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو۔(پ14، الحجر:98،99)
(حلیۃ الاولیاء، ابومسلم خولانی ،الحدیث۱۷۷۸،ج۲،ص۱۵۳)
    جان لو! سوال کرناکراہت سے خالی نہیں، اس لئے روزی کمانا افضل ہے۔ البتہ! وہ شخص جس سے مسلمانوں کے مصالح متعلق ہوں تواس کوکسب چھوڑکرمسلمانوں کے مصالح کو قائم کرنا بہترہے اوراس کی مصالح کے مال اور دیگر اموال سے کفایت کی جائے گی اسی لئے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بننے کے بعد تجارت چھوڑنے کامشورہ دیاپس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجارت چھوڑدی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مصالح کے مال سے کفایت کی
Flag Counter