(صحیح البخاری ،کتاب النکاح ،باب الصفرۃ للمتزوج ،الحدیث۵۱۵۳،ص۴۴۶)
عورتوں سے حسنِ معاشرت اوررعایت،غیرت میں حسنِ سیاست ، نفقہ ، تعلیم ،باری تقسیم کرنا،نافرمانی کی صورت میں ادب سکھانا،اور جماع کرناہے۔ اورعزل کرنا(یعنی جماع کرتے وقت جب منی نکلنے لگے تو بیوی سے علیحدہ ہوکر مادہ منویہ کو باہر خارج کردينا) مکروہ ہے ۔
اورجب بچہ پیدا ہوتواس کے کان میں اذان دینا۔اسی طرح نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے مروی ہے ۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی المولود یؤذن فی أذنہ ،الحدیث۵۱۰۵،ص۱۵۹۷)
اوراس کا اچھا سانام رکھنا۔نبئ رحمت ،شفیعِ امّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''تمہیں بروزِ قیامت تمہارے ناموں سے پکاراجائے گااس لئے اپنے اچھے نام رکھو۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی تغییر الاسماء ،الحدیث۴۹۴۸،ص۱۵۸۵)
اورجس کانام ناپسندیدہ ہو تواسے تبدیل کرنامستحب ہے۔نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایساہی کیااور ارشاد فرمایا:
''لَا تَجْمَعُوْا بَیْنَ اِسْمِیْ وَکُنْیَتِیْ
ترجمہ : میرے نام اور کنیت کوجمع نہ کرو۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند ابی ھریرۃ ،الحدیث۹۶۰۴،ج۳،ص۴۲۸)
اورکھجور یاکسی میٹھی چیزکے ساتھ بچے کوگھٹی دینامستحب ہے۔عورت پرہرحالت میں مردکی اطاعت کرنااوراس کے
۱؎:احناف کے نزدیک اڑھائی سال کے اندرتھوڑا یازیادہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی۔۔۔۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر