Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
138 - 415
عقد ِنکاح کی شرائط:۱؎
    (۱)۔۔۔۔۔۔ولی کی اجازت۔اگرولی نہ ہوتوبادشاہ کی اجازت ہونی چاہے۔(۲)۔۔۔۔۔۔اگرعورتثیِّبہ(یعنی بیوہ یامطلَّقہ) بالغہ ہوتواس کی رضاکاپایاجانا(۳)۔۔۔۔۔۔ایسے دوگواہوں کاحاضرہوناجن کی عدالت(نیک ہونا ) ظاہر ہو اور اگر ان کاحال پوشیدہ ہوتب بھی نکاح منعقد ہو جاتاہے اور(۴)۔۔۔۔۔۔عقدکے وقت ایجاب اوراس کے ساتھ ہی قبول کاپایاجانا،عقدِ نکاح لفظِ نکاح یاتزو یج یاجوان کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہو،خواہ کسی بھی زبان میں ہو،دومکلف شخصوں کے درمیان ہواوران میں کوئی عورت نہ ہو،چاہے وہ شخص خاونداورولی ہوں یاان دونوں کے وکیل ہوں۔
آداب ِنکا ح:
    عقدِنکاح کے وقت عورت کے ولی کونکاح کاپیغام دیناآداب نکاح میں سے ہے،نہ توعورت اس وقت عدَّت میں ہو اورنہ ہی اس سے پہلے کسی نے اسے منگنی کاپیغام دیاہوکیونکہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے منگنی کے پیغام پرپیغام دینے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح البخاری ،کتاب النکاح ،باب لا یخطب علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح أو یدع،الحدیث۵۱۴۲،ص۴۴۵)
    نکاح کے آداب میں سے نکاح سے پہلے خطبے کاہوناہے اورایجاب وقبول کے ساتھ ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء کا ہونا ہے۔پس نکاح کروانے والا کہےـــ:
'' بِسْمِ اللہِ ،وَالْحَمْدُلِلّٰہِ،وَالصَّلَاۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ
(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )میں نے تیرا نکاح کردیا۔''شوہربھی اسی طرح کہے پھروہ کہے میں نے اتنے مہرپراس کانکاح قبول کیا۔

    اورمردکاحال عورت کوبتادینامستحب ہے کیونکہ یہ باہمی محبت کے زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح نکاح سے پہلے عورت کودیکھنامستحب ہے۔اسی طرح آداب نکاح میں سے دوعادل گواہوں کے علاوہ نکاح کے اظہارکے لئے نیک لوگوں کاجمع کرناہے اورچاہے کہ وہ نکاح کے ساتھ آنکھوں کی حفاظت، نیک اولادکی طلب اورامت کی کثرت کی نیت کرے۔
منکوحہ کے متعلق شرائط:
    وہ لونڈی نہ ہو۔۲؎ بشرطیکہ مرد آزادعورت کامہراداکرنے پرقادرہو،رضاعت(یعنی دودھ)کی وجہ سے حرام نہ ہو،کیونکہ
۱؎:صدرالشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں:''نکاح کی چند شرطیں ہیں:(۱)عاقل(۲)بلوغ اور(۳)گواہ ہونا۔'' (بہارشریعت، حصہ۷، ص۹)نکاح کے تفصیلی مسائل جاننے کے لئے بہار شریعت ،حصہ ۷ کا مطالعہ فرمائيں۔

۲؎: احناف کے نزدیک :''آزاد عورت نکاح میں ہو تو باندی سے نکاح جائزنہیں اور آزاد نکاح میں نہ ہو تو باندی سے نکاح جائز ہے جیسا کہ فتاوی ہندیہ اور درمختار میں کہ''آزاد عورت نکاح میں ہے اور باندی سے نکاح کیا صحیح نہ ہوا۔ (الفتاوی الھندیہ،کتاب النکاح القسم السابع،ج۱،ص۲۷۹)اگر حرّہ نکاح میں نہ ہو توباندی سے نکاح جائز ہے اگرچہ اتنی استطاعت ہے کہ آزاد عورت سے نکاح کرے۔''(الدرالمختار،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۳۶)
Flag Counter