Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
137 - 415
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''لوگو ں پر ایسازمانہ آئے گا کہ آدمی کی ہلاکت اس کی بیوی ، ماں باپ اوراولادکے با عث ہوگی وہ اسے مفلسی کی عار دلائیں گے، اور اسے ایسے کام کرنا پڑیں گے جو اس کے بس سے باہر ہوں گے اور وہ ایسے راستو ں پر چل پڑے گا جن میں اس کا دین چلا جائے گا اور وہ ہلاک ہوجائے گا۔''
   (الزھد الکبیر للبیھقی ،الحدیث۴۳۹،ص۱۸۳، مفہوماً)
نکاح کے فوائد کا بیان :
    نکاح کے فوائد بے شمارہیں۔ ان میں سے نیک اولاد کا ہونا ، شہوت کا ختم ہونا، گھرکی دیکھ بھال اور قبیلے کا بڑھنا بھی ہے اور ان کے نان ونفقہ کا بندو بست کر کے ان کے ساتھ رہنے میں مجاہدے کا ثواب حاصل ہوتا ہے، اگر بیٹا نیک ہو تو تجھے اس کی دعا سے برکت حاصل ہوگی اور اگر فو ت ہوجائے تو ( بروزِقیامت تیرا)شفیع ہوگا۔
نکاح کی آفات:
    نکاح کا نقصان یہ ہے کہ انسان کے لئے حلال مال میں سے خرچ کرنا مشکل ہو جاتاہے جبکہ رزق ِحلال کماناواجب ہے اور اسی طر ح بیوی کے حقوق کو پورا کرنے میں کوتا ہی ہوجاتی ہے اور اس کے حقوق خاوند پرلازم ہیں اور بندے پر عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اورنرمی کابرتاؤکرناضروری ہے اوراس بات پرقوی لوگ ہی قادر ہوتے ہیں، بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ ہے کہ بیوی اوراولاداسے ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکراورآخرت کے راستے پرچلنے سے غافل کردیتے ہیں اور اکثر نکاح کرنے کے بعدانسان بخیل ہوجاتاہے اوریہ بھی ہلاک کردینے والی چیزوں میں سے ہے ،ہم نے تمہیں نکاح کے فوائداور مصائب پرآگاہ کردیااوریہ مختلف اشخاص اور حالات کے اعتبارسے مختلف ہوتے ہیں پس اپنے حال پرغورکرواوراپنے لئے اس بات کواختیارکروجوتمہارے لئے راہِ آخرت میں بہترہو۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔سنت مؤکدہ ہے جبکہ بندہ وطی، مہر اور نفقہ(یعنی خرچ وغیرہ) پر قادرہو اور(رد المحتارکے) گذشتہ صفحات میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ نوافل میں مشغول ہونے سے نکاح کرناافضل ہے۔اور نکاح ترک کرنے والا گنہگار ہے کیونکہ سنت مؤکدہ کا ترک کرنا گناہ ہے۔ اور اگرنکاح سے ا پنے آپ کو اور عورت کو حرام سے بچانے کی نیت اور اولاد کا ارادہ ہو تونکاح کرنا اجر وثواب کا موجب ہے۔ اسی طرح سنت پر عمل اور حکم الٰہی بجا لانے کی نیت ہو تو اجروثواب ملے گا لیکن اگر محض شہوت پوری کرنے اور حصولِ لذت کی نیت ہو تو کوئی ثواب نہيں۔''    (رد المحتارمع الدر المختار، ج۴،ص۷۲تا۷۴)
Flag Counter