نکاح کی افضلیت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے یہاں تک کہ بعض علماء نے اسے عبادت کے لئے گو شہ نشینی سے افضل قرار دیا ہے جبکہ دیگرعلماء نے بھی اس کی افضلیت کا اعتراف کیا ہے لیکن عبادت کے لئے گو شہ نشینی کو اس پر مقدَّ م قرار دیا ہے جب تک کہ نفس نکاح کا مشتاق نہ ہو اور بعض علماء نے کہاہے کہ ہمارے زمانے میں اس کو تر ک کرنا افضل ہے کیونکہ اکثر کمائی درست نہیں اور عورتو ں کے اخلاق بھی مذموم ہیں۔
نکا ح کی ترغیب:
نکاح کی ترغیب پر مندرجہ ذیل آیات دلالت کرتی ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ رحمت نشان ہے:
(1)وَ اَنۡکِحُوا الْاَیَامٰی مِنۡکُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ (پ18، النور: 32)
ترجمۂ کنزالایمان: اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندو ں کا۔
(2) وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿74﴾ (پ19، الفرقان: 74)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈ ک اور ہمیں پرہیز گا رو ں کا پیشوابنا ۔
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ محبت نشان ہے:اَلنِّکَاحُ سُنَّتِیْ فَمَنْ اَحَبَّ فِطْرَتِیْ فَلْیَسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ۔
ترجمہ:نکاح میری سنت ہے پس جو شخص میری فطر ت (یعنی اسلام ) سے محبت کرتاہے وہ میری سنت کو اپنائے۔
(السنن الکبری للبیھقی،کتاب النکاح ،باب الرغبۃ فی النکاح ،الحدیث۱۳۴۵۱،ج۷،ص۱۲۴)
حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کایہ فرمانِ عالیشان نکاح سے کنارہ کشی اختیار کرنے پردلالت کرتا ہے: ''دو سو سال کے بعد لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہوگا جو ہلکی پیٹھ والا ہو(یعنی) ایسا شخص جس کے بیوی بچے نہ ہوں۔''
(تاریخ بغداد،الرقم:۳۲۵۴، ابراھیم بن النضر بن مروان بن سوید العطار،ج۶،ص۱۹۵)
۱؎:ہمارے علماء کے نزدیک غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب اورحالتِ اعتدال میں سنتِ مؤکدہ ہے اوریہ نوافل میں مشغول ہونے سے افضل ہے۔جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ہے :''صحیح قول کے مطابق غلبۂ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے اورحالتِ اعتدال میں۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر