Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
135 - 415
منع ہے نیز قبولِیَّتِ دعوت کا مقصد اِطاعت ہو نہ کہ پیٹ کی خواہش کو پورا کرنا اور میزبان کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نہ نکلے۔

    حضرت سیِّدُناابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ہم نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے زمانہ میں کھڑے کھڑے اور چلتے پھرتے کھاتے پیتے تھے ۔''۱؎
(جامع الترمذی ،ابواب الأشربۃ ،باب ماجاء فی الرخصۃ فی الشرب قائما ،ا لحدیث۱۸۸۰،ص۱۸۴۲)
    اہل میت کی طرف کھانالے جانا مستحب ہے۔ اس بات کو سمجھ لویہ تمہارے لئے مفید ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ، وَاِلَیْہِ الْمَرْجَعُ وَالْمَاٰبُ۔
۱؎: مفسر شہیر ،حکیم الا ُمَّت حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سرکار مدینہ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے کھڑے کھڑے کھانے پینے کے متعلق حدیث کی وضاحت مرأۃ المناجیح میں یوں بیان فرماتے ہیں :''کھڑے ہو کرپینا ضرورت کے موقعہ پر تھا یازمزم یاوضو کابچا ہوا(پانی)۔ باقی پانی بیٹھ کر پئے یاکھڑے ہوکر پینا بیان جواز کے لئے تھا ،بیٹھ کر پینا بیان استحباب کے لئے ۔لہٰذا دونوں عمل درست ہیں۔''

(مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح،ج۶،ص۷۶)
Flag Counter