| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اختیار کرے جو اسے پسندیدہ ہو اور مہمانوں سے یہ بات کہنے میں بھی حر ج نہیں کہ جو چاہو پسند کرو کیونکہ اس میں بہت زیادہ ثواب ہے۔
حضرت سیِّدُناجابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِمدینہ، قرارِقلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرما نِ جنّت نشان ہے: ''جو شخص اپنے بھائی کی خواہش کے مطابق اسے لذت پہنچا تا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے ، اس کے د س لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجات بلند فرماتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے تین جنتوں جنت الفردوس ، جنت عدن اور جنت خلد سے کھلائے گا ۔''
مہمان سے یہ نہ کہے کہ کیا میں آپ کے لئے کھانا پیش کرو ں ؟ بلکہ اسے چاہے کہ اس کے سامنے کھانارکھ دے اگر وہ کھائے تو ٹھیک ورنہ اٹھالیا جائے ،اسی طر ح حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے۔ضیافت(یعنی مہمان نوازی) کے آداب:
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے:'' مہمان کے لئے تکلف نہ کرو کیونکہ اس طرح تم اس سے نفرت کرنے لگو گے اور جو مہمان سے نفرت کرتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بغض کرتا ہے اور جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بغض کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ ا سے ناپسند کرتا ہے۔''
(البحر الزخار بمسند البزار، مسند سلمان الفارسی، الحدیث:۲۵۱۴،ج۶، ص۴۸۲، مختصراً)
فقیروغنی کے لئے دعوت قبول کرنا سنت ہے۔ بعض آسمانی کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک میل چل کر مریض کی عیادت کرو ، دو میل چل کر جنازہ میں شریک ہو اورتین میل چل کر دعوت قبول کر و۔
سرکارِمکۂ مکرّمہ،سلطانِ مدینۂ منوّرہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''لَوْ دُعِیْتُ اِلٰی کُرَاعٍ لَاَجَبْتُ
ترجمہ: اگر مجھے (کَرَاعُ الْغَمِیْم میں بھی )بکری کے پائے کی دعوت دی جائے تومیں قبول کرو ں گا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الھبۃ ،باب القلیل من الھبۃ ،الحدیث۲۵۶۸،ص۲۰۲)
کَرَاعُ ایک جگہ کانام ہے جو مدینے سے چند میل کے فاصلے پرہے۔جب نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ماہ ِرمضان میں اس جگہ کی طرف سفر فرماتے تو روزہ نہ رکھتے ،اور دورانِ سفرنماز میں قصرکیا کرتے۔''
اگر نفلی رو زہ ہو تو اسے افطار کردے کیونکہ مسلمان کے دل کو خوش کرنارو زہ رکھنے سے افضل ہے۔ اگر کھانے ، جگہ یا بچھونے کے بارے میں شبہ ہو یا دعوت دینے والا فاسق،ظالم یا بد عتی ہو،یا دعوت کے ذریعے فخر ومباہات کا طلبگار ہو تو دعوت قبول کرنا