Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
133 - 415
صاع پر اپنے بھائیوں کو جمع کرنامجھے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان اکٹھے ہو کر قرآن مجید پڑھتے اور کچھ نہ کچھ کھاکر الگ ہوتے تھے ۔

    حدیث ِ مبارک میں ہے:بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے سے فرمائے گا:'' اے ابن آدم ! میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔''وہ عرض کریگا: ''میں تجھے کیسے کھلاتا حالانکہ تُو تو تمام جہانوں کوپالنے والا ہے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:'' تیرا مسلمان بھائی بھوکا تھا تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا، اگرتُو اسے کھلاتا توگویا مجھے کھلاتا۔''
(صحیح مسلم ،کتاب البر ،باب فضل عیادۃ المریض ،الحدیث۶۵۵۶،ص۱۱۲۸،مفھوماً)
    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جنت میں ایسے بالا خانے(یعنی کمرے) ہیں جن کا باہراندر سے اور اند ر باہر سے دکھائی دیتا ہے۔ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان لو گو ں کے لئے تیار کر رکھا ہے جو نرمی سے گفتگو کرتے ، کھانا کھلاتے اور رات کو اس وقت نماز پرھتے ہیں جب لوگ سوئے ہوتے ہیں۔''
(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب الصیام ،باب من لم یر بسرد الصیام بأسا۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۸۴۷۹،ج۴،ص۴۹۵)
    بندے کوچاہے کہ اس دعوت میں نہ جائے جس میں اسے نہیں بلایا گیا۔حدیث  مبارک میں ہے:
اَنَّ مَنْ مَّشٰی اِلَی الطَّعَامِ لَمْ یُدْعَ اِلَیْہِ مَشٰی فَاسِقًا،وَّ اَکَلَ حَرَامًا۔
ترجمہ: جو شخص ایسی دعوت میں گیا جہاں اسے نہیں بلایاگیا تھا وہ فاسق بن کر گیا اور اس نے حرام کھایا۔
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب المیم ،الحدیث۶۱۱۷،ج۲،ص۲۸۷)
    البتہ! جب اسے معلوم ہو کہ صاحب ِدعوت اس کی آمد پر خوش ہوگا تو جا سکتا ہے۔

    رسول اکرم،نور مجَسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت سیِّدُنا ابوہیثم بن تیہان اور حضرت سیِّدُناابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے گھر کا ارادہ کیا اوریہ تینوں حضرات بھوک سے تھے۔''
(جامع الترمذی،ابواب الزھد باب ماجاء فی معیشۃ اصحاب النبی  الحدیث: ۲۳۶۹،ص۱۸۸۹، مفھوماً)
    اگر وہ جائے اور صاحب خانہ گھر پر نہ ہو اور اسے معلوم ہو کہ وہ اس کے کھانے پر خوش ہوگا تو آگے بڑھ کر کھانا کھالے۔ اور کھانے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کسی مخصو ص چیز کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے اس چیز کا حاضر کرنا اس پر مشکل ہو البتہ اگر اسے یقین ہو(کہ بآسانی مل جائے گی) تو حرج نہیں ۔اگر وہ دو کھانوں میں سے ایک کا اختیار دے تو اسے
Flag Counter