Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
131 - 415
جَعَلَہٗ عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِہٖ وَلَمْ یَجْعَلْہُ مِلْحًااُجَاجًا بِذُنُوْبِنَا
ترجمہ:تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی رحمت سے اسے میٹھا ،پیاس بجھانے والا بنا یااور ہمارے گناہوں کے سبب کھارا اورکڑوا نہیں بنایا۔''

    جو چیز بھی لوگوں پر پھیری جائے تو سیدھے ہاتھ سے ابتداء کی جائے اور پانی کوتین سانسوں میں پئے ،کھانے پینے کے شروع اور آخرمیں''اَلْحَمْدُلِلّٰہ''کہے ،جب کھانے سے فا رغ ہوجائے تو کھانے کے ٹکڑوں کو چننا مستحب ہے اور (دانتو ں کا) خلال کرے اور کہا گیاہے کہ جو پیالے کو چا ٹے اور دھوکر اس کا پانی پی لے تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے پھر پڑھے:
''اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ وَتَنْزِلُ الْبَرَکَاتُ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْہُ قُوَّۃً عَلٰی مَعْصِیَتِکَ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی نعمت سے نیکیاں مکمل ہوتی اوربرکتیں اتر تی ہیں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اس کو اپنی نافرمانی کے لئے قوت کا با عث نہ بنا۔''

    پھر سورۂ اخلاص اور سورۂ قریش کی تلاوت کرے، جب تک دسترخوان نہ اٹھایا جائے اس وقت تک نہ اٹھے، اگر کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھائے تو اس کے لئے یوں دعا مانگے :
''اَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ وَ اَفْطَرَ عِنْدَ کُمُ الصَّائِمُوْنَ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ
ترجمہ:تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں ،تمہارے پاس رو زہ دار افطار کیاکریں اور فرشتے تمہارے لئے رحمت کی دعاکرتے رہیں۔''

    اور(کھانے کے بعد)یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:
''اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَاوَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا سَیِّدُنَا وَمَوْلَانَا
ترجمہ:تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ،کفایت دی اور ٹھکانہ دیا،وہ ہمارا سر دارو مالک ہے ۔ پھر دو نوں ہاتھوں کو دھولے۔''
اجتماعی دعوت کے آداب:
    جب اجتماعی دعوت میں ہو تواس وقت تک کھاناشروع نہ کرے جب تک وہ شخص جواس سے عمر میں بڑا ہو ابتدا ء نہ کرے، اس وقت تک یہ صبر کرے البتہ خود اس کی اتباع کی جاتی ہو تو پھر ابتداء کرنا ٹھیک ہے اور اچھی باتیں کرے ،اپنے دوست کے ساتھ نرمی کا بر تا ؤ کرے اور کسی کو قسم نہ دے، حضرت سیِّدُنا حسن بن علی رضی تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:'' کھانے کی شان نہیں کہ اس پر قسم کھائی جائے۔'' اور کھانے کے لئے تین بار کہنے میں حرج نہیں اور جب کوئی دوسرا شخص بطورِ عزت اس کی طرف کھانے کا بر تن بڑھائے تو اسے قبول کرلے۔ حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک اور حضرت سیِّدُناثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک دعوت میں اکٹھے ہوئے، حضرت سیِّدُناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تھال ان کے آگے کردیا تو حضرت سیِّدُناثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رُک گئے۔
Flag Counter