Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
129 - 415
    کھانے والے کوچاہے کہ دستر خوان پر اچھے طریقے سے بیٹھے اور اسی پر بر قرار رہے۔نبئ اَکرم، نور ِمجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا طریقہ مبارکہ اسی طرح تھا اوربعض اوقات کھانے کے لئے دو زانُوہو کر پاؤں کی پشت پر تشریف فرما ہوتے او رکبھی دایاں گھٹنا کھڑا کر کے بائیں پرتشریف فرما ہوتے تھے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الأطعمۃ ،باب فی الأکل من أعلی الصفحۃ ،الحدیث۳۷۷۳،ص۱۵۰۱،مختصراً )
    لیٹ کر اور ٹیک لگا کر کھانا پینا مکروہ ہے۔ البتہ! چنے وغیرہ کھائے جا سکتے ہیں اور کم کھانے پینے کا ارادہ کر ے کیونکہ عبادت کے لئے کھانے کی نیت کم کھانے سے ہی درست ہوسکتی ہے۔

    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے:''آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا بر تن نہیں بھرتا، بندے کے لئے تو چند لقمے کا فی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، اگر ایسا نہ کر سکے تو تہائی کھانے کے لئے ، تہائی پینے کے لئے اور تہائی سانس کے لئے ہو۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الزھد ،باب ماجاء فی کراھیۃ کثرۃ الأکل ،الحدیث۲۳۸۰،ص۱۸۹۰)
     اور کھانے کی طر ف اسی وقت بڑھے جب بھوکا ہو کیونکہ سیر ہونے کے با وجودپیٹ بھرکر کھانا دل کو سخت کردیتا ہے اور شکم سیر ہونے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لے (جب روٹی آجائے )تو لذیذکھانے اور سالن کا انتظار نہ کرے کیونکہ رو ٹی کی عزت یہی ہے کہ اس کے لئے سالن کا انتطار نہ کیاجائے ۔

    اورکھانا مل کر کھانا چاہے اگر چہ گھر والے او ربچے ہوں کیونکہ بہترین کھانا وہ ہے جس پر زیادہ ہاتھ جمع ہوں۔

    حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں :'' نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تنہا کھانا تناول نہ فرماتے تھے ۔''
(مکارم الاخلاق للخرائطی ،باب ماجاء فی اطعام الطعام۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۱۷،ج۱،ص۳۳۱)
آدابِ طعام (یعنی کھانے کے آداب) کا بیان:
    شر وع میں
بسم اللہ
اور آخر میں
الحمد للہ
پڑھے اور ہر لقمہ کے ساتھ
بسم اللہ
کہنا اچھا ہے تاکہ اسے کھانے کی حرص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل نہ کردے ،پس پہلے لقمہ کے ساتھ
بسم اللہ ،
دو سرے کے ساتھ
بسم اللہ الرحمٰن
اور تیسرے لقمہ کے ساتھ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پڑھے اور بلند آواز سے پڑھے تا کہ دو سرو ں کو بھی یا د آجائے ۔دائیں ہاتھ سے کھائے، نمک سے شرو ع کرے اور اسی پر ختم کرے، لقمہ چھوٹا ہوا ور اسے اچھی طرح چبا ئے، جب تک پہلے لقمہ کو نگل نہ لے دوسرے لقمہ کی طر ف ہاتھ نہ بڑھائے اور کھانے میں عیب نہ نکالے کیونکہ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کبھی بھی کھانے میں عیب
Flag Counter