اَلْوُضُوْءُ قَبْلَ الطَّعَامِ یَنْفِی الْفَقْرَ وَبَعْدَہٗ یَنْفِی اللَّمَمَ۔
ترجمہ:کھانے سے پہلے وضوکرنا (یعنی ہاتھ دھونا) فقر کو دور کرتا ہے اور بعد میں دھونا دیوانگی ( یعنی پاگل پن) کو دور کرتا ہے۔
(مسند الشھاب القضاعی ،باب الوضوء قبل الطعام۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۱۰،ج۱،ص۲۰۵)
اور کھانے کو دستر خوان پر رکھنا چاہے کیونکہ یہ سنت کے زیادہ قریب ہے ۔
جب نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے کھانا لایا جاتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اسے زمین پر رکھتے اور بے شک یہ تواضع کے زیادہ قریب ہے۔
(الزھد للامام احمد بن حنبل ،الحدیث۲۲،ص۲۸،مختصرًا)
حضورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے:
لاَ اٰکُلُ مُتَّکِئًا،اِنَّمَا اَنَاعَبْدٌ،اٰکُلُ کَمَا یَاْکُلُ الْعَبْدُ،وَ اَشْرَبُ کَمَا یَشْرَبُ الْعَبْدُ۔
ترجمہ: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ،میں بندہ ہوں، اسی طرح کھاتا ہوں جس طر ح بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح پیتا ہوں جس طر ح بندہ پیتا ہے۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،الرقم۱۴۸۹۔عبد الحَکَم بن عبد اﷲ القَسْملی بصری ،ج۷،ص۲۸)
(صحیح البخاری ،کتاب الأطعمۃ ،باب الأکل متکأٍ ،الحدیث۵۳۹۸،ص۴۶۶)
کہاگیا ہے کہ چار باتیں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد جاری ہوئیں: اونچے دسترخوان (یعنی ٹیبل وغیرہ)، چھَلْنِیاں(چھلنی کی جمع چھاننے کاآلہ)، اُشنان (صابن کی جگہ استعمال کی جانے والی ایک بُوٹی ) اور پیٹ بھر کر کھانا۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ اونچے دستر خوان پرکھاناناجائز ہے کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد شرو ع ہونے والا ہر کام بدعت و ممنوع نہیں ۔