| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب التھجد وقیام اللیل ،باب الحث علی قیام اللیل۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۴۸)
تجھے نرم بستر تیار کر کے نفس کو سکون نہیں دینا چاہے بلکہ نماز اور ذکر میں مشغول رہنا چاہئے یہاں تک کہ تجھے نیند آجائے۔چنانچہ،
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:'' جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کی پیشانی پر تین گرہیں لگا تا ہے، ہر گر ہ کی جگہ پر پھونک مارکر کہتا ہے :''لمبی رات ہے، سو جا۔'' پس اگر وہ بیدار ہوکر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے تو ایک گر ہ کھل جاتی ہے، اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے پھرنماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے پس وہ ہشاش بشاش صبح کرتا ہے ،ورنہ صبح کے وقت اس پر سستی طاری ہوتی ہے ۔''(صحیح البخاری ،کتاب التھجد ،باب عقد الشیطان ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۱۱۴۲،ص۸۹، علی ناصیۃ:بدلہ:علی قافیۃ رأس)
ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ سراپائے رحمت، محبوبِ ربّ العزت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص کاذکر کیا گیا جو رات بھر صبح تک سوتا ہے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کیا ہے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب الحث علی صلاۃ اللیل وان قلت ،الحدیث۱۸۱۷،ص۸۰۰)
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ فضیلت نشان ہے:'' وہ دورکعتیں جو بندہ رات کے نصف آخر میں پڑھتا ہے وہ اس کے لئے دنیا ومافیہا ( یعنی دنیااور جو کچھ اس میں ہے) سے بہتر ہیں اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں یہ ان پر لازم کردیتا ۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب اللام ،الحدیث ۵۴۴۴، ج۲، ص۲۲۷)
فضیلت والے دن اورراتیں:
دنوں کا پیچھے ذکر ہوچکا ہے،بہرحال فضیلت والی راتیں پندرہ ہیں:
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتیں،
سترہ رمضان المبارک کی رات :یہ وہ رات ہے جس کی صبح یوم فرقان ہے، جس دن میں دولشکر باہم مقابل ہوئے اور واقعہ بد رپیش آیا۔
محرم کی پہلی اور دسویں رات، رجب کی پہلی اور پندرہویں کی رات اورستا ئیسویں (یعنی معراج)کی رات۔ان راتوں میں نماز پڑھنا احادیث سے ثا بت ہے ۔
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت