| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
نشان ہے: '' اس رات میں عمل کرنے والے کے لئے سو سال کی نیکیوں کا ثوا ب ہے۔ جو شخص اس میں بارہ رکعات پڑھے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ ق پڑھے، دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھے اورآخرمیں سلام پھیرے پھر سو مرتبہ پڑھے:
'' سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ''
اورسو مرتبہ استغفار پڑھے اور 100 بار نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ہدیہ درود وسلام پیش کرے اور پھر اپنے دین اورامورِ آخرت کے لئے جو چاہے دعا مانگے ،صبح رو زہ رکھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے گا البتہ گناہ کے کاموں کی دعا نہ ہو۔''
(شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الصیام ،تخصیص شھر رجب بالذکر ،الحدیث۳۸۱۲،ج۳،ص۳۷۴،بتغیرٍ قلیلٍ)
شعبان کی پندرھویں رات:اس میں ایک سو رکعات پڑھے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اِخلاص پڑھے اور بالخصوص عیدین کی راتوں کو عبادت کرنا مستحب ہے۔
نبئ کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ارشاد پاک ہے:مَنْ اَحْیٰی لَیْلَتَیِ الْعِیْدَیْنِ لَمْ یَمُتْ قَلْبُہ، یَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ۔
ترجمہ:جس نے عیدین کی راتوں کو زندہ رکھا ( یعنی عبادت کی) اس کا دل اس دن مردہ نہ ہو گا جس دن(لوگوں کے) دل مردہ ہو جائیں گے۔
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب الصیام ،باب فیمن قام لیلتی العیدین ،الحدیث۱۷۸۲،ص۲۵۸۳''من أحیی''بدلہ''من قام'' )
اورماہ ِ ذوالحجۃ الحرام کی آخری رات عبادت کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔