Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
124 - 415
باب10:            اوراد ووظائف کا بیان
    جان لو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین کو اپنے بندو ں کے لئے نرم بنایاتا کہ وہ اسے ٹھکانہ بنائیں اور اس سے زادِراہ حاصل کریں، اس کے مصائب اور ہلاکتو ں سے بچیں اور یہ جان لیں کہ زندگی ان کو اس طر ح لے جارہی ہے جس طر ح کشتی اپنے سوار کو لے جاتی ہے پس لوگ اس جہاں میں سفر میں ہیں ان کی پہلی منزل پنگھوڑا اور آخری منزل قبر ہے اور وطن جنت یا دو زخ ہے ، عمر سفر کی مسافت ، اس کے سال اس کے مراحل اور مہینے فر سخ ہیں۔ اس کے دن میل ، سانس قد م ، عبادت پونجی اور اوقات اصل سر مایہ ہیں، اس کی خواہشات واغراض ڈاکو ہیں، اس کا نفع سلامتی کے گھر میں بڑی سلطنت اورہمیشہ کی نعمت کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کے ذریعے کا میا بی حاصل کرنا ہے او راس کا نقصان (نعوذ باللہ)اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دوری کے ساتھ عبرتناک سزائیں ، طو ق اور جہنم کے درجات میں درد ناک عذاب ہے پس جو شخص اپنی عمر میں ایک سانس بھی غفلت میں گزارے تو اسے اس قد ر حسرت ہوگی جس کی انتہا نہیں اور اس قد ر نقصان ہوگا جس کااختتام نہیں ۔
اوراد کی فضیلت ، ترتیب اور اس کے احکام :
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
(1) اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیۡلًا ؕ﴿7﴾وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا ؕ﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان :بے شک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹو ٹ کر اسی کے ہو رہو۔ (پ 29 ،المزمل: 8،7)
(2) وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیۡلًا ﴿ۖۚ25﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَاسْجُدْ لَہٗ وَ سَبِّحْہُ لَیۡلًا طَوِیۡلًا ﴿26﴾ 

(پ 29 ،الدھر:25۔26)
ترجمۂ کنزالایمان: اوراپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو اور کچھ رات میں اسے سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو۔

    اگر تو ایسی سعادت کا طلبگار ہے جس کے بعد بد بختی نہ ہوتو اپنے تمام شب وروز کو عبادت وطاعت میں گزار کیونکہ حضور سیدِ دَو عالم، رسولِ معظّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بھی عبادت کا حکم دیا گیابا وجود اس کے کہ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف فرمادئیے، پس تو عبادت کرنے کا زیادہ حقدار ہے اور تیرا معاملہ خطر ناک ہے۔ کمانے اور دنیاوی معاملات میں بقدر حاجت مشغول ہو اور دیگر اوقات کو آخرت کے راستے میں استعمال کر ۔

    رات کے قیام کو نہ چھوڑ کیونکہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''رات کا قیام کرنا ضروری ہے اگر چہ بکری کا دو دھ دوہنے کی
Flag Counter