(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،باب ماجاء فی فضل التسبیح والتکبیروالتھلیل والتحمید،الحدیث۳۴۶۰،ص۲۰۰۸)
جان لو! مذکورہ اذکار میں سے نفع بخش وہ ذکر ہوتا ہے جو حضور قلب کے ساتھ ہو۔ جو دل کی حضوری کے بغیر ہو اس سے کم نفع حاصل ہو تا ہے کیونکہ ذکر کامقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت ہے اور یہ چیزہمیشہ حضور قلب کے ساتھ ذکر کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اسی سے انسان برے خاتمہ سے محفو ظ رہتا ہے ۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
دعا کے لئے اچھے اوقات کا خیال رکھے، با وضو قبلہ رخ ہو، پست آواز ہو، گڑگڑاتے ہوئے اور قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرے ، باربار دعا کرے،دعا کی ابتداء اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکر کرنے اور نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پاک بھیجنے نیز گناہوں کوچھوڑنے کاپختہ ارادہ کرتے ہوئے دعا مانگے ۔
مروی ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا چہرۂ انور خوشی سے چمک رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' میرے پاس جبرائیل علیہ السلامحاضرہوئے اورکہا:'' اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ آپ پر درو د بھیجے گا میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا۔''
(سنن النسآئی ،کتاب السھو ،باب الفضل فی الصلاۃ علی النبی ،الحدیث۱۲۹۶،ص۲۱۷۱)
مزید آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''جو شخص مجھ پر درو دپاک بھیجتا ہے تو جب تک وہ درو دشریف بھیجتا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اب بندے کی مرضی ہے کم پڑھے یا زیادہ ۔''
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات ،باب الصلاۃ علی النبی ،الحدیث۹۰۷،ص۲۵۳۰)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:'' جو شخص کتاب میں مجھ پر درو د پاک لکھے تو جب تک اس کتاب میں میرانام رہے گا فر شتے اس شخص کے لئے مسلسل بخشش مانگتے رہیں گے ۔''
(المعجم الاوسط ،الحدیث۱۸۳۵،ج۱،ص۴۹۷)