سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مبارک ہے:''جوشخص ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر پڑھے اور سوکا عد د
''لَااِلَہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُیُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ''
پرختم کرے تو اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
(السنن الکبری للنسائی،کتاب عمل الیوم واللیلۃ،باب التسبیح والتکبیر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۹۹۷۰/۹۹۷۱،ج۶، ص۴۱۔۴۲)
ایک شخص نے حضورنبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم! دنیا نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے او رمیرا مال کم پڑگیا ہے۔نبئ کریم ،ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' تو فرشتوں کی نماز اور مخلوق کی تسبیح کیوں نہیں پڑھتا جس کے سبب انہیں رزق ملتا ہے۔ راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !وہ کیا ہے ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:
''سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللہَ''
طلوع فجر اور نماز فجر کے درمیان سو مرتبہ یہ کلمات پڑھاکرو، دنیا تیرے پاس ذلیل ورسوا ہو کرآئے گی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر کلمے سے ایک فرشتہ پیدافرمائے گا جوقیامت تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح بیان کریگا اوراس کا ثواب تیرے لئے ہو گا۔''
(المجروحین لابی حاتم محمد بن حبان البستی،باب الالف ،الرقم۶۲،اسحاق بن ابراھیم الطبری ،ج۱، ص۱۴۸۔ ۱۴۹)
اللہ کے پیارے رسول،بی بی آمنہ کے گلشن کے مہکتے پھول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا:
'' جب بندہ ''الحمد للہ''کہتا ہے تویہ (کلمہ)زمین اور ساتوں آسمانوں کے درمیان کو بھردیتا ہے جب دوسری مرتبہ ''الحمد للہ''کہتاہے تو ساتو یں آسمان سے لے کر سب سے نچلی زمین تک کو بھر دیتا ہے اور جب تیسری مرتبہ''الحمد للہ''کہتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا ۔
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیَّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے:
''لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ، سُبْحَانَ