فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پرلیٹے۔(پ5، النسآء: 103)
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے :
ذَاکِرُ اللہِ فِی الْغَا فِلِیْنَ کَالْحَیِّ بَیْنَ الْاَمْوَاتِ۔
ترجمہ:غا فل لوگوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس طرح ہے جس طرح مُردوں میں زندہ ہو۔
(صحیح البخاری ،کتاب الدعوات ،باب فضل ذکر اﷲ،الحدیث۶۴۰۷،ص۵۳۸،مفھوماً)
حضور نبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
ذَاکِرُ اللہِ فِی الْغَافِلِیْنَ کَشَجَرَۃٍ خَضْرَاءَ فِی وَسْطِ الْھَشِیْم۔
ترجمہ:غافل لوگو ں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس طرح ہے جیسے سو کھے درختو ں میں سر سبز درخت ہو ۔
(شعب الایمان للبیھقی،باب فی محبۃ اﷲ،فصل فی اِدامۃ ذکر اﷲ،الحدیث۵۶۵،ج۱،ص۴۱۱''الھشیم''بدلہ''الشجر'')
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے:''جو لوگ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے ہیں تو فر شتے ان کا احا طہ کرلیتے ہیں اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی بارگاہ میں (اپنی شان کے مطابق)ان کا تذکر ہ فرماتا ہے ۔
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب الادب ،باب فضل الذکر ،الحدیث۳۷۹۱،ص۲۷۰۲)
نبئ کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''جو لوگ کسی جگہ جمع ہوتے ہیں اور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پاک بھیجتے ہیں تو بروزِ قیامت وہ مجلس ان کے لئے باعث حسرت ہو گی۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب البروالاحسان ،باب الصحبۃ والمجالسۃ ،الحدیث۵۹۱،ج۱،ص۳۹۷)