| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
قر آن مجید کو تعظیم اور غور وفکر کے ساتھ پڑھنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی مخلوق پر مہربانی فرمائی کہ اس نے اسے اپنے عظیم
عرش سے اس درجہ میں نازل فرمایا کہ مخلوق سمجھ سکے یہاں تک کہ اس کے کلام کے معا نی جو اس کی ذاتی صفت ہے اسے مخلوق کی سمجھ کے درجہ تک پہنچا دیا اور مخلوق کے لئے وہ صفت حروف اور آواز کی لپیٹ میں کیسے ظاہر ہوتی اگر اس کے کلام کی جلالت حرو ف کے لباس میں مستو ر نہ ہو تو عر ش اور زمین کو اس کے سننے کی تاب نہ ہوتی بلکہ جو کچھ ان دو نوں کے درمیان ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی با دشاہی کی عظمت اور نوری شعا عو ں سے متفر ق ہو جاتاہے اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت سیِّدُناموسیٰ علیہ السلام کو ثابت نہ رکھتا تو وہ اس کے کلام کو سننے کی طاقت نہ رکھتے جس طر ح پہاڑ اس کی ادنیٰ تجلی کو برداشت نہ کر سکا اور ریزہ ریزہ ہوگیا،لہذا بندے کو چاہئے کہ قرآن مجید کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں متکلم کی عظمت کو بھی حاضر کرے اور یہ خیال کرے کہ اس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے کلام فرما رہا ہے۔
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عالیشان ہے:''اِنَّ لِلْقُرْاٰنِ ظَھْرًاوَبَطنًا وَحَدًّاوَمَطْلَعًا
ترجمہ:بے شک قرآن مجید کا ایک ظاہر ، ایک با طن ، ایک حد اور ایک جائے ظہورہے۔''
(الزھد لابن المباک ویلیہ کتاب الرقائق ،باب فی لزوم السنۃ ،الحدیث۹۳،ص۲۳،مفہوماً)
امیر المؤمنین، مولیٰ مشکل کشا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشادفرمایا: ''اگر میں چاہوں تو سورۂ فاتحہ کی تفسیرسے ستراونٹ بھردو ں۔''
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجیدکے اسرار ختم نہیں ہوسکتے اور اس کے عجائبات بے شمار ہیں اور یہ چیزیں دل کی پاکیزگی پر موقو ف ہیں۔ نبئ اکرم ،نورِمجسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حق میں دعافرمائی :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دین کی سمجھ اور قرآن مجید کی تاویل سکھا دے۔ ''(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبد اﷲ بن العباس بن عبد المطلب،الحدیث۲۸۸۱،ج۱،ص۶۷۴)
یہ اس بات پر دلالت ہے کہ تفسیر قرآن مجید کی طرح مسموع(یعنی سنی ہوئی) اورمنقول (یعنی روایت کی ہوئی) نہیں ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تو ضرور ان سے اِس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں ۔(پ5، النسآء:83)
اس آیت میں اہل علم کے لئے استنباط کرنا ثابت ہے اور یہ اس بات پر دلالت ہے کہ یہ چیز صرف سماعت پر موقوف نہیں۔ اس با ت کو سمجھ لو بہت مفیدہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔