Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
117 - 415
حرف میں غور کرتا ہے حتی کہ تو اس سے کچھ بھی نہیں چھوڑتااور یہ میر ی کتاب ہے جسے میں نے تیری طرف اتا را ہے ،دیکھ ! میں نے اس میں تیرے لئے کتنی با تو ں کو تفصیل سے بیان کیا اور کتنی با تو ں کو تکرار سے بیان کیا تا کہ تو اس کے طول وعرض میں غورو فکر کرے پھرتو اس سے منہ پھیر تا ہے، کیامیں تیرے نزدیک تیرے بھائی سے بھی پیچھے ہوں؟ اے میرے بندے ! تیرا بھائی تجھے کوئی واقعہ سنا تا ہے تو تُوپوری طرح متو جہ ہو کر سنتا ہے اور پوری دل جمعی سے اس کی با تو ں کو سنتا ہے، اگر کوئی درمیان میں بات کرتا ہے یا تجھے اس کی بات سے بے توجہ کرتا ہے تو تو اشارے سے اسے رو کتا ہے جب کہ میں تیری طر ف متو جہ ہو ں اور تجھ سے کلام کرتا ہوں اور تو اپنا دل مجھ سے پھیر لیتاہے کیا تو نے مجھے اپنے بھائی سے بھی ہلکا سمجھ رکھا ہے؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بہت زیادہ بلند و اعلیٰ ہے ۔
قرآن پاک پڑھنے کے آداب:
    تلاوت کرنے والے کو چاہے کہ وہ با وضو ہواور حالتِ ادب میں کھڑا یا بیٹھا ہو او ر سب سے افضل نماز میں حالتِ قیام میں قراء ت کرنا ہے۔ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے:
مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِیْ اَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ لَمْ یَفْھَمْہُ۔
ترجمہ:جس شخص نے تین دن سے کم میں مکمل قرآن پاک پڑھا اس نے نہیں سمجھا۔
(جامع الترمذی ،ابواب القراء ات ،باب فی:کم أقرأ القرآن؟ ،الحدیث۲۹۴۹،ص۱۹۴۸)
    بعض لوگوں نے ہر رات میں ایک قرآن پاک ختم کرنا مکروہ جانا ہے اور شایدہرہفتہ میں ختم کرنابہتر ہے اور تلاوت کے اندر ترتیل (یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا )مستحب ہے۔

    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ ھٰذَاالْقُرْآنَ نُزِّلَ بِحُزْنٍ ، فَاِذَا قَرَأْتُمُوْہُ فَتَحَازَنُوْا۔
ترجمہ:بے شک یہ قرآن حز ن کے ساتھ اتاراگیا ہے۔ پس جب اسے پڑھو تو حزن (یعنی غم) ظاہر کرو۔
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات ،باب فی حسن الصوت بالقرآن ،الحدیث۱۳۳۷،ص۶ ۲۵۵''فتحازنوا''بدلہ ''فَابْکُوا'')
    اور تلاوت کرنے والے کوچاہے کہ آیتِ سجد ہ کے حق کی رعایت رکھے۔ لہٰذا اگر با وضو ہواور خود پڑھے یا دو سرے سے سنے تو سجدہ کرے۔ قرآن مجید میں چودہ سجدے ہیں۔ سورۂ حج میں دو سجدے جبکہ سورۂ ص میں سجدہ نہیں۔۱؎
۱؎: احناف کے نزدیک :''سورۂ حج اورسورۂ صۤ میں ایک ایک سجدہ ہے۔'' (تنویر الابصارمع الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب سجود التلاوۃ،ج۱،ص۱۰۴)
Flag Counter