| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کی اس قدر ومنزلت کے وسیلہ سے جو تیری بارگاہ میں ہے اوراس حق کے صدقے جو تجھ پر ہے۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہم پر رحم فرما مجاہدین ، مہاجرین ، انصار اور ہمارے ان بھائیوں کو جو حالتِ ایمان میں ہم سے پہلے چلے گئے، بخش دے ، ا ے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبر انور اور اپنے حرم شریف میں ہماری اس حاضری کو آخری حاضر ی نہ بنانابلکہ اپنی رحمت کے سبب باربار اس درکی حاضری نصیب فرمانا ،اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ۔ریاضُ الجنَّۃکی فضیلت:
پھر ریاضُ الجنَّۃ میں جائے اوروہاں نماز پڑھے اور جس قدر ممکن ہو کثرت سے دعا مانگے کیونکہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ جنت نشان ہے:
مَابَیْنَ قَبْرِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْ ضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔
ترجمہ:میری قبر انور اور منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے ۔
(صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ ،باب فضل مابین القبروالمنبر ،الحدیث:۱۱۹۶،ص۹۳،قبری بدلہ بیتی)
پھرمنبر کے پا س دعا مانگے اور مستحب یہ ہے کہ اپنا ہاتھ نچلے پائے پر رکھے اور یہ بھی مستحب ہے کہ جمعرات کے دن نکلے او ر شہداء کی قبر وں کی زیارت کرے ،صبح کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرے اور زیارت کے لئے نکل جائے اور ظہر کی نماز کے لئے مسجد کی طرف لوٹ آئے تا کہ اس سے مسجد نبوی میں فرائض کی جماعت فو ت نہ ہوجائے۔
جنت البقیع میں حاضری:۱؎
اور ہر رو ز نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کے بعد جنت البقیع جانا مستحب ہے۔اور حضرت
۱؎:امیر اہلسنت بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔقادری دامت برکاتہم العالیہ رفیق الحرمین میں فرماتے ہیں :''جنت البقیع کے مدفونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہو کر سلام عرض کریں اور باہر ہی سے دعامانگیں کیونکہ نجدیوں نے جنت البقیع شریف نیز جنت المعلٰی(مکہ مکرمہ)دونوں مقدس قبرستانوں کے مقبروں اور مزاروں کو نہایت ہی بے دردی اور گستاخی کے ساتھ شہید کردیا ہے ۔ ہزارہا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور بے شمار اہلبیتِ اطہاررضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین واولیائے کباررحمہم اللہ وعشَّاقِ زاررحمہم اللہ کے مزارات کے نفوش تک مٹادئیے ہیں ۔آپ اگر اندر تشریف لے گئے تو آپ کو کیا معلوم کہ آپ کا پاؤں کسی صحابی یاکسی ولی کے مزار شریف پڑرہا ہے بلکہ عام مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے۔جو راستہ قبریں منہد ِم کر کے بنایا جائے اس پر چلنا حرام ہے ۔بلکہ امام اہلسنت، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اگر کسی راستے کے بارے میں شک بھی ہو کہ یہ راستہ قبروں کو مٹا کر بنایاگیا ہے تو اس پر بھی چلنا حرام ہے ۔ وَالْعِیَاذُبِاللہِ تَعَالٰی۔جنت البقیع کے دروازے ہی پر حاضر ہو کر سلام عرض کرنا ضروری نہیں۔ اصل طریقہ تو یہ ہے کہ اس سمت سے حاضر ہوں جہاں سے قبلہ کو آپ کی پیٹھ ہو اور مدفونِینِ بقیع کے چہرے آپ کی طرف ہوں۔'' (رفیق الحرمین، ص۲۰۰)