Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
113 - 415
حضرات سیِّدانا ابو بکر صدیق وعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کا طریقہ
    پھر ایک گز کے فاصلے پر ہٹ کر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سلام بھیجے کیونکہ ان کا سر مبارک نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے کندھے مبارک کے پاس ہے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر مبارک امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھے مبارک کے پاس ہے ، پھر ایک گز کے فاصلے پر ہٹ کر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سلام بھیجے اوردونوں پر اس طرح سلام بھیجے:
    ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَا یَا وَزِیْرَیْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،اَلْمُعَاوِنَیْنِ لَہٗ عَلَی الْقِیَامِ بِالدِّیْنِ مَادَامَ حَیًّا،اَلْقَائِمَیْنِ فِیْ اُمَّتِہٖ بَعْدَہٗ بِاُمُوْرِ الدِّیْنِ،تَتَّبِعَانِ فِیْ ذٰلِکَ اٰثَارَہ،،وَ تَعْمَلَانِ بِسُنَّتِہٖ،فَجَزَاکُمَا اللہُ خَیْرَ مَا جَزٰی وَزِیْرَیْ نَبِیٍّ عَلٰی دِیْنِہٖ خَیْرًا۔
    ترجمہ:اے نائبین ِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہما!اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ظاہر ی حیات میں دین کے معاملہ میں مدد کرنے والو! اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال کے بعد امت میں امور دین قائم کرنے والو! تم پر سلام ہو اس سلسلہ میں تم نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نقش قدم پر چلے اورآپ کی سنت کے مطابق عمل کیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی نبی کے دووزیرو ں کو اس کے دین کے اعتبار سے جو جزا دی ہے تمہیں اس سے بہتر جزا عطا فرمائے ۔ ''

    پھر لوٹ کر نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبر انور اور ستون(جو کہ امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے دورمیں تھا) کے درمیان آپ کے سر انور کے سامنے کھڑا ہو کر قبلہ کی طرف منہ کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد اور بزرگی بیان کرے اور نبئ رحمت، شفیعِ اُمّت، صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر کثرت سے درود شریف پڑھے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کرے :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تو نے ارشاد فرمایا ہے :
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿64﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبو ب! تمہارے حضور حاضر ہو ں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرو راللہ کو بہت تو بہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔(پ5، النسآء: 64)

اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے حکم کو مانا ، تیرے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا قصد کیا ،اپنے گناہوں کے معاملہ میں ان کو شفیع بناتے ہیں جن گناہوں نے ہماری پیٹھ کو بو جھل کردیا، ہم اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنی لغزشوں سے توبہ کرتے ہیں،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!تو ہماری تو بہ قبول فرما اور ہمارے حق میں اپنے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شفا رش قبول فرما، ان
Flag Counter