| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
پہلے جمرہ کی طرح کنکریاں مارے اور یہاں بھی پہلے کی طر ح کھڑاہو کر دعا مانگے پھر جمرہ عقبہ کی طر ف جائے، اسے سات کنکریاں مارے اور کسی عمل میں مشغول نہ ہو پھر اپنی رہائش گا ہ کی طر ف لوٹ آئے اور یہ رات بھی مِنٰی میں گزارے، اس رات کو ''لیلۃ النفر الأوَّل''کہا جاتا ہے اور یہاں صبح کرے پھر جب تشریق میں سے دو سرے دن ظہر کی نماز پڑھ لے تو پہلے دن کی طرح اکیس کنکریاں مارے ۔ اب اسے اختیار ہے کہ مِنٰی میں ٹھہرے یامکہ مکرمہ لو ٹ آئے اگر وہ مِنٰی سے سو رج غرو ب ہونے سے پہلے نکل جائے تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا لیکن اگر رات تک ٹھہرارہا تو اب وہاں سے نکلنا جائز نہیں بلکہ وہاں رات گزارنا ضروری ہے یہاں تک کہ دو سرے دن پہلے کی طر ح اکیس کنکریاں مارے گا۔ مِنٰی میں رات نہ گزارنے اور کنکریاں نہ مارنے کی وجہ سے دم میں جانور ذبح کرنا لازم ہوجاتا ہے اور وہ اس کا گو شت صدقہ کردے (خود نہ کھائے ) اور رات مِنٰی ہی میں گزارے۔۱؎ سر کارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہی طریقہ کارتھا۔
آٹھوا ں ادب: عمرہ اورطواف وداع تک کے بقیہ امور
(جو شخص عمرہ کا ارادہ رکھتاہو) وہ غسل کرے ، احرام کے کپڑے پہنے اور عمرہ کا احرام باندھے ، عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ کہے، مسجد عا ئشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاقصد کرے اور وہاں دو رکعات نماز پڑھے پھر تلبیہ کہتا ہو ا مکہ مکرمہ آجائے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہوجائے۔ جب مسجد میں داخل ہو تو تلبیہ کہنا چھوڑ دے اور طواف کے سات چکر لگائے۔اور سعی کے سات پھیرے لگائے جب فا رغ ہوجائے تو سر منڈوائے اور اس کا عمرہ مکمل ہوگیا۔
نواں ادب: طواف وداع کابيان
جب حاجی تمام کا م ختم کرلے اور کُوچ کا ارادہ کرے تو طواف وداع میں مشغول ہوجائے اوربغیر رمل اور اضطباع کے سات چکر لگائے ۔جب طواف سے فا رغ ہو تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھے آب زم زم پئے پھر ملتزم کے پاس آکر دعامانگے اور گڑ گڑا ئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی اور مغفرت کا طلبگارہو۔
دسواں ادب : مدینہ منورہ کی زیارت اورآداب
حضورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
''مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ وَفَاتِیْ
۱؎:احناف کے نزدیک یہ چیزیں حج کی سنتوں میں سے ہیں:''نویں رات منیٰ میں گزارنا،آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات کو روانہ ہوناوقوف عرفہ کے لئے غسل کرنا، عرفات سے واپسی میں مزدلفہ میں رات کو رہنا اورآفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے منیٰ کو چلاجانا، دس اورگیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں اُن کو منیٰ میں گزارنا اور اگر تیرہویں کو منیٰ میں رہا تو بارہویں کے بعد کی رات کو بھی منیٰ میں رہے۔'' (بہارشریعت، حج کی سنتیں،حصہ۶،ص۱۳)