| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
نیکی لکھ دے اور گناہ مٹا دے اور ہر بال کے بدلے اپنے ہاں ایک درجہ بلند فرمادے۔ ''
عورت بالوں کو کٹوائے اور گنجے کے لئے مستحب ہے کہ سر پر استرا پھروائے اورجب جمرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد سر منڈوائے تو اب وہ احرام سے نکل جائے گا اور ا س کے لئے تمام ممنوعا ت حلال ہوجائیں گی مگر بیوی کا قر ب اور شکار جائز نہیں پھر مکہ مکرمہ واپس آئے اور اسی طر ح طو اف کرے جس طر ح ہم نے بیان کیاہے۔ یہ طواف حج میں فر ض ہے اور اسے طواف زیارت کہا جا تا ہے، اس کا پہلا وقت قربانی کی رات کے نصف کے بعد سے ہے اور افضل وقت قربانی کا دن ہے اور اس کے لئے آخری وقت مقرر نہیں بلکہ اسے مو خر کر سکتا ہے لیکن احرام کی قید باقی رہے گی اور اس طو اف کے بعد ہی اس کے لئے عورت کا قر ب حلال ہوگا جب طواف کرلیا تو احرام سے باہر آنے کی تکمیل ہوگئی اور احرام سے مکمل طو ر پر با ہر آگیا اور اب صرف ایام تشریق کی رمی اور منٰی میں رات گزارنا باقی ہے۔ احرام سے نکلنے کے بعد حج کی اتباع میں یہ واجب ہیں۔احرام سے نکلنے کے تین اسباب ہیں:
(۱)رمی ( یعنی کنکریاں مارنا)(۲) سر منڈوانااور (۳) فر ض طواف کرنا۔
خطبات حج :۱؎
(۱)ساتویں ذوالحجہ کا خطبہ(۲) نویں ذوالحجہ کا خطبہ(۳) قربانی کے دن کا خطبہ(۴) منٰی سے واپسی کے پہلے دن (یعنی بارہویں ذوالحجہ) کا خطبہ اور یہ تمام خطبے زوال کے بعد ہو نے چاہیں اور ان سب میں ایک ہی خطبہ ہوگا البتہ عر فات میں دو خطبے ہوں گے اور ان کے درمیان بیٹھنا ہے ۔
پھر جب طواف سے فا رغ ہو جائے تو رات گزار نے اور کنکریاں مارنے کے لئے منٰی واپس چلا جائے اور رات منٰی میں گزارے اسے لیلۃ القر(یعنی ٹھہرنے کی رات ) کہاجاتا ہے کیونکہ دوسرے دن لوگ وہاں ٹھہرتے ہیں اور واپس نہیں جاتے جب عید کا دوسرا دن ہو اور سورج ڈھل جائے تو کنکریاں مارنے کے لئے غسل کرے اور پہلا جمرہ جو عر فات کی جانب ہے اس کا قصد کرے، اور یہ راستے کے دائیں طر ف ہے۔ اسے سات کنکریاں مارے جب اس سے آگے نکل جائے تو راستے کی دائیں جانب سے تھوڑا ہٹ کر قبلہ رخ کھڑا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرے،لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ اوراَللہُ اَکْبَر
پڑھے پھر حضورِقلب اور اعضاء کے خشوع وخضوع کے ساتھ دعا مانگے اور سو ره بقرہ پڑھنے کی مقدار قبلہ رخ کھڑا رہے پھر جمرۂ وسطیٰ کی طر ف جائے اور اسے بھی
۱؎:احناف کے نزدیک حج میں تین خطبے سنت ہیں:''امام کا مکّہ میں ساتویں کو اورعرفات میں نویں کو اورمنیٰ میں گیارہویں کو خطبہ پڑھنا۔''(بہارشریعت، حج کابیان، حصہ۶،ص۱۳)