| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
رُخ کرے تو بھی حرج نہیں ۔ہاتھ بلند کر کے سات کنکریاں مارے اور تکبیر کہے ہر کنکری مارتے وقت پڑھے اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیری کتاب کی تصدیق کرتا اور تیرے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت کی پیروی کرتا ہوں۔ ''۱؎جب کنکریاں مارے تو تلبیہ وتکبیر کہنا چھوڑدے البتہ فر ض نمازوں کے بعد تکبیر کہے اور یہ یوم نحر کی فجرسے ایام تشریق میں سے آخری دن (یعنی دس سے تیرہ ذوالحجہ)کی عصرتک ہے ۔''۲؎
پھر اگر قر بانی کا جانورساتھ ہو تو اسے ذبح کرے ۔بہتر یہی ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور کہے :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ قربانی تجھ سے، تیرے ساتھ اور تیرے لئے ہے ،مجھ سے قبول فرما جیسا کہ تو نے اپنے خلیل حضرت سیِّدُنا ابراہیم علیہ السلام سے قبول فرمائی۔ '' اونٹ کی قر بانی افضل ہے پھر گائے کی پھر بکری کی اور سات آدمیوں کے بڑے جانور میں شریک ہونے کی نسبت بکری کی قربانی افضل ہے۔ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''خَیْرُ الْاَ ضْحِیَۃِ الْکَبَشُ الْاَقْرَنُ
ترجمہ: بہترین قربانی سینگوں والے مینڈھے کی ہے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ،باب کراھیۃ المغالاۃ فی الکفن ،الحدیث۳۱۵۶،ص۱۴۶۰)
سفید رنگ کا جانورپیلے اور سیاہ رنگ سے افضل ہے ۔اگر قربانی نفلی ہو تو اس سے کھا سکتا ہے۔ ایسے جانور کی قربانی نہ کرے جو لنگڑا ہو ، کان چرا ہوا یا سینگ ٹو ٹا ہو ا ہو ، خارش زدہ ہو،۳؎ یاکان کٹے ہوئے ہوں یا ایسا کمزور ہو کہ اٹھنے سے عا جز ہو۔ پھر اس کے بعد سر منڈوائے اور سنت یہ ہے کہ رخ قبلہ کی طرف ہو اور سر کے اگلے حصے سے ابتداء کرے دائیں طرف سے گدی پر اٹھی ہوئی دو ہڈیوں تک مونڈوادے پھر باقی حصے کو منڈوائے اور عرض کرے :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہر بال کے بدلے میرے لئے
۱؎:امیر اہلسنت، امیرِدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطا رؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ کنکریاں مارنے کا طریقہ اس طرح تحریر فرماتے ہیں: ''سات کنکریاں اپنے الٹے ہاتھ میں رکھ لیں بلکہ دو تین کنکریاں زائدلے لیں۔ اب سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اورانگوٹھے کی چٹکی میں لے کر اور سیدھا ہاتھ اچھی طرح اٹھا کرکہ بغل کی رنگت ظاہر ہو بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے ایک ایک کرکے سات کنکریاں اس طرح ماریں کہ تمام کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ورنہ کم ازکم تین ہاتھ کے فاصلے تک گریں ۔پہلی کنکری مارتے ہی لَبَّیْک کہنا موقوف کر دیں کہ اب لَبَّیْک کہنا سنت نہ رہا۔ جب سات پوری ہوجائیں تو وہاں نہ رکئے، نہ سیدھے جائیں، نہ دائیں بائیں۔ بلکہ فورًا ذکر ودعا کرتے ہوئے پلٹ آئیے۔'' (رفیق الحرمین،ص۱۵۴) ۲؎:احناف کے نزدیک: ''نویں(۹)ذوالحجۃ الحرام کی فجرسے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی فر ض نمازیں جو مسجد کی جماعت اُولیٰ کے ساتھ ادا کی گئیں ان میں ایک بار بلند آواز سے تکبیر(یعنی
اَللہُ اَکْبَرط اَللہُ اَکْبَرط لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ ط وَاللہُ اَکْبَر،اَللہُ اَکْبَر، ولِلّٰہِ الْحَمْد)
کہنا واجب ہے اور تین بار افضل ہے ۔''
(تنویر الابصارمع الدرالمختار، باب العیدین،ج۱،ص۱۱۶)
مزید معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی طرف سے شائع کردہ امیر اہلسنت مدظلہ العالی کا رسالہ'' نماز عید کاطریقہ '' ملاحظہ فرمائیں۔ ۳؎: ''خارشی جانور کی قربانی جائز ہے جب کہ فربہ ہو، اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں۔'' (الفتاوی الہندیہ،کتاب الاضحیہ،ج۵، ص۲۹۸)