Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
106 - 415
ساتوا ں ادب:      حج کے دیگراعمال کا بیان
    پھر مزدَلِفہ میں عشاء کے وقت ایک اذان اور دوا قامتو ں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھے۔۱؎ اور قصر کرے۔ دونوں نماز وں کے درمیان نفل نہ پڑھے لیکن دو نوں فر ض نماز یں ادا کرنے کے بعد مغرب اور عشاء کے نوافل اور وتر نماز کو جمع کرے، پہلے مغر ب کے نوافل پڑھے (پھر عشا ء کے پڑھے) جو شخص اس رات کے پہلے نصف میں وہاں سے نکل جائے اور وہاں رات نہ گزارے تو اس پر دم لازم ہوجاتاہے۔۲؎ جو شخص قدرت رکھتا ہو اسے اس رات کو عبادت کرتے ہوئے گزارنا نہایت عمدہ عبادات میں سے ہے پھر جب نصف رات گزرجائے تو جانے کی تیاری کرے، وہاں سے کنکریاں لے لے کیونکہ وہاں نرم پتھر نہیں ۔وہاں سے ستر کنکریاں اٹھالے کیونکہ اتنی کنکریوں کی ضرورت ہے اور زیادہ لینے میں حرج نہیں اور چاہے کہ کنکریاں چھوٹی ہوں پھر اند ھیرے میں صبح کی نماز پڑھے اورچل پڑھے یہاں تک کہ جب مشعر حرام تک پہنچے اور وہ مزدلفہ کا آخری حصہ ہے تو وہاں صبح کے روشن ہونے تک دعا مانگے اور کہے :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مشعرِحرام ،بیت اللہ ، عزت والے مہینوں ، رکن اور مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے صدقے حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی روح مبارک کو ہماری طر ف سے سلام پہنچا اور ہمیں سلامتی کے گھر میں داخل فرما اے بزرگی اور عزت والے۔''

    پھروہاں سے سو رج طلوع ہونے سے پہلے چل پڑے حتی کہ اس جگہ تک پہنچ جائے جسے وادیئ مُحَسِّرکہا جاتا ہے۳؎ تو وہاں سے سواری کو تیز کرنا مستحب ہے یہاں تک کہ اس وادی سے نکل جائے ،اگر پیدل ہو تو تیز تیر چلے۔ پھر دس ذوالحجہ کی صبح کو تلبیہ تکبیر کے ساتھ ملادے اور منیٰ پہنچ جائے اور جمرات (یعنی کنکریاں مارنے )کی تین جگہیں ہیں۔ پہلے کچھ بلند ی پر کنکریاں مارنے کی جگہ ہے پس ایک نیز ہ سو رج بلند ہونے کے بعدذبح سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے ،قبلہ رخ کھڑاہو ۔اگر جمرہ کی طرف
۱؎ :امیر اہلسنت، امیرِدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطا رؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی تصنیف ِرفیق ،رفیق الحرمین میں اس کے ادا کرنے کا طریقہ نقل فرماتے ہیں :''یہاں آپ کو ایک ہی اذان اور ایک ہی اقامت سے دونوں نمازیں ادا کرنی ہیں لہٰذااذان واقامت کے بعد پہلے مغرب کے تین فرض اداکرلیجئے، سلام پھیرتے ہی فورًاعشاء کے فرض پڑھئے۔ پھر مغرب کی سنتیں، اس کے بعد عشاء کی سنتیں اور وتر اداکیجئے۔'' (رفیق الحرمین،ص۱۴۹)

۲؎:امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ رفیق الحرمین میں نقل فرماتے ہیں:''مزدلفہ میں رات گزارناسنت مؤکدہ ہے مگر اس کا وقوف واجب ہے۔ وقوف مزدلفہ کاوقت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔ اس کے درمیان اگر ایک لمحہ بھی یہاں گزار لیا تو وقوف ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ جس نے فجر کے وقت میں یہاں نماز فجر ادا کی اس کاوقوف صحیح ہوگیا، اور جو صبح صادق سے پہلے ہی مزدلفہ سے چلاگیا اس کاواجب ترک ہوگیا، اس پر دم واجب ہے سوائے معذورکے۔''    (رفیق الحرمین،ص۵۲ا) 

۳؎ : وادیئ مُحَسِّرمِنیٰ اور مزدَلِفہ کے بیچ میں واقع ہے اور یہ ان دونوں کی حدود سے خارج ہے،یہاں اصحاب ِفیل پر عذاب نازل ہواتھا،یہاں ٹھہرنا جائز نہیں۔(ایضًا۵۰ا)
Flag Counter