میں نے تیری طرف صبح کی،تجھی پر بھروسہ کیا،تیری ذات کا ارادہ کیا پس مجھے ان لوگوں میں سے بنادے جن پر آج تو ان(یعنی فرشتوں) کے سامنے فخر فرماتا ہے جو مجھ سے بہتر اور افضل ہیں۔''جب عرفات میں آجائے تو مقام نمرہ میں مسجد کے قریب خیمہ لگادے کیونکہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسی مقام پر خیمہ لگایا تھا۔نمرہ وادی عرنہ کانچلا حصّہ ہے جو موقف اور عرفات کے دوسری طرف ہے اور وقوف عرفات کے لئے غسل کرناچاہے ۔جب سورج ڈھل جائے تو امام مختصر خطبہ دے کر بیٹھ جائے اور مؤذن اذان دے اور امام دوسرا خطبہ دے اوراقامت کو اذان سے اس طرح ملایا جائے کہ مؤذن کے اقامت کہنے کے ساتھ امام خطبہ سے فارغ ہوجائے پھر ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کو ملا ئے اور نماز میں قصرکرے اور پھر موقف کی طرف جائے اور عرفات میں ٹھہر جائے اور وادئ عرنہ میں نہ ٹھہرے۔ مسجد ابراہیم کا اگلا حصہ وادی عرنہ میں ہے اور پچھلا حصہ عرفات میں پس جو شخص مسجدابراہیم کے اگلے حصے میں وقوف کرے اسے وقوف عرفہ نہ حاصل ہوگااور مسجد میں عرفات کی جگہ کو بڑے پتھروں کے ذریعے ممتاز کیاگیاہے بہتر یہ ہے کہ وہ ان پتھروں کے پاس امام کے قریب قبلہ رخ ہو کرٹھہرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثناء، تسبیح وتہلیل،دعا اور توبہ کثرت سے کرے۔ اس دن روزہ نہ رکھے تاکہ دعا پرقوت حاصل ہو اور عرفات سے غروب آفتاب سے پہلے نہیں نکلناچاہئے تاکہ عرفات میں دن اور رات جمع ہو جائے اور چاند میں شبہ کی وجہ سے آٹھویں تاریخ کی ایک ساعت وہاں ٹھہرنا ممکن ہو تو یہ احتیاط کے مطابق ہے اور جو شخص دس ذوالحجہ کی طلوع فجرتک وقوف نہ کرسکے اس کا حج فوت ہو جائے گا۔اس پر لازم ہے کہ وہ عمرہ کے افعال ادا کر کے احرام کھول دے پھرحج کے فو ت ہونے کی وجہ سے جانور ذبح کر ے اور اس کی (آئندہ سال ) قضاء کرے۔ اس دن حاجی کی اہم مشغولیت دعا کرتے رہنا ہے کیونکہ اس قسم کے اجتماع ، اس قسم کے دن اور اس قسم کی جگہ میں دعا ؤں کے قبول ہونے کی زیادہ امیدہوتی ہے۔ وہ دعا ئیں جو وقو ف عرفات کے دن پڑھنے کے بارے میں منقول ہیں ان کا پڑھنا بہتر ہے ،وہ دعائیں یہ ہیں :