Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
104 - 415
اطراف میں دیواریں بن چکی ہیں اس لئے صفا پر جانے کے لئے اندر کی طرف سے جانا پڑتا ہے) جب صفاتک پہنچ جائے جو ایک پہاڑ ہے تو پہاڑ کے نیچے سے انسانی قد کے برابر کچھ زینے اوپر چلا جائے۔ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے اوپر چڑھے حتی کہ آپ کو کعبہ شریف نظر آیا اور پہاڑ کے دامن سے سعی شروع کرنا بھی کافی ہے لیکن بعض درجے نئے بنائے گئے ہیں تو انہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں چھوڑناچاہے کیونکہ اس طرح سعی مکمل نہ ہوگی۔ جب یہاں سے شروع کرے تو صفا کی طرف چہرہ کرلے اور ایک چکر لگائے جب مروہ تک پہنچے تو اس پر چڑھے اور صفا کی طرف چہرہ کرلے تو ایک چکر ہو جائے گا جب صفا واپس لوٹے گا تو دو چکر ہو جائیں گے اس طرح سات چکر لگائے جب اس طرح کرلے گا تو طوافِ قدوم اور سعی سے فارغ ہو جائے گا اور یہ دونوں سنت ہیں۔ اور سعی کے لئے باوضو ہونا مستحب ہے البتہ طواف میں باوضوہوناواجب ہے سعی کرلی تو اب وقوفِ عرفات کے بعد دوبارہ سعی کرنا لازم نہیں اور بطورِ رکن یہ سعی کافی ہوگی کیونکہ سعی کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ وقوف کے بعد ہو۔ہاں! یہ فرض طواف کے لئے شرط ہے۔ البتہ! سعی کے لئے شرط ہے کہ وہ طواف کے بعدہی ہو خواہ کوئی بھی طواف ہو۔
چھٹا ادب:     وقوفِ عرفا ت اورماقبل امورکا بيا ن
    اگر حاجی نو ذوالحجہ کے دن عرفات پہنچے تو وقوف عرفات سے پہلے طواف قدوم اور مکہ مکرمہ کی حاضری کے لئے نہ جائے اگر اس سے کچھ دن پہلے پہنچے اور طواف قدوم کرلے تو ذوالحجہ کی سات تاریخ تک حالت احرام میں ہی رہے (جبکہ اس نے حج قران کی نیت کی ہو)پس (اسی دن)ظہر کے بعد امام ،کعبۃ اللہ شریف کے پاس مکہ میں خطبہ دیتا ہے اور لوگوں کوآٹھ ذوالحجہ کو منیٰ جانے کی تیاری کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ را ت رہیں اور دوسرے دن صبح عرفات جائیں تاکہ زوالِ شمس کے بعد وقوف کر کے فرض کی ادائیگی کرلیں کیونکہ وقوف کا وقت نو ذوالحجہ کے زوال سے لے کر قربانی کے دن کی صبح صادق طلوع ہونے تک ہے۔ حاجی کو چاہے کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ کی طرف جائے اوراس کے لئے مستحب ہے کہ مکہ مکرمہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے آخر تک اگر پیدل چلنے پر قدرت ہو تو پیدل چلے اورمسجد ابراہیم علیہ السلام سے جائے ،وقوف تک پیدل چلنا افضل ہے اور اس کی تاکید ہے۔ جب منیٰ پہنچے تو یوں کہے: ''یااللہ! یہ منیٰ ہے تو مجھ پر اس چیز کے ساتھ احسان فرما جس کے ساتھ تونے اپنے اولیاء کرام اور فرمانبردار بندوں پر احسان فرمایا۔''

    یہ رات منیٰ میں گزارے، یہاں صرف رات گزارنا ہے جس سے عمل حج متعلق نہیں۔جب نو ذوالحجہ کی صبح ہو تو صبح کی نماز پڑھے جب ثبیر(نامی پہاڑ) پر سورج طلوع ہو جائے تو عرفات کی طرف جائے اوریہ دعا کرے:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میری اس صبح کو بہتر صبح بنا دے جو میں نے کی ہے اور اسے اپنی رضا کے قریب کر دے اور اپنی ناراضگی سے دور رکھ۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!
Flag Counter