Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
102 - 415
اتاردے، تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے اپنے عزت والے گھر تک پہنچایا جسے اس نے لوگوں کے لَوٹنے اور امن کی جگہ بنایا، اسے مبارک اور تمام جہانوں کے لئے ہدایت بنا دیا اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں تیرا بندہ ہوں،یہ شہرتیرا شہر،یہ حرم تیرا حرم اور یہ گھرتیرا گھر ہے، میں تیری بارگاہ میں تیری رحمت طلب کرنے آیا ہوں، میں تجھ سے اس طرح سوال کرتا ہوں جس طرح کوئی مجبور شخص تیرے عذاب سے خوف زدہ ،تیری رحمت کا امیدوار اورتیری رضا کا متلاشی سوال کرتا ہے۔''

    (۶)اس کے بعد حجرِ اسود کاارادہ کرے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ چھوئے اور اسے بوسہ دے اور پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اَمَانَتِیْ اَدَّیْتُھَا،وَمِیْثَاقِیْ تَعَاھَدْتُہُ، اِشْہَدْ لِیْ بِالمُوَافَاۃِ
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں نے اپنی امانت ادا کردی، اپنا وعدہ پورا کیا تو اس وفا پر گواہ رہنا۔''اگر بوسہ نہ دے سکے تو اس کے سامنے کھڑاہو کر مذکورہ بالا الفاظ کہے پھر طواف قدوم کے علاوہ کوئی اور عمل نہ کرے البتہ اگر لوگوں کو فرض نماز پڑھتا ہوا پائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھے پھر طواف کرے۔

چوتھا ادب:

    طواف کے متعلق ہے۔ جب طواف کا ارادہ کرے خواہ کوئی بھی طواف ہوتو اس پر چھ امورلازم ہیں۔

    (۱)طواف میں نماز کی شرائط کا لحاظ رکھے کیونکہ طواف بھی ایک قسم کی نماز ہے البتہ اس میں گفتگو کو جائز قرار دیا گیا طواف کی ابتداء میں ہی اضطباع کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ چادرکے درمیان والے حصے کو دائیں بغل کے نیچے سے لے جاکر اس کے دونوں کنارے بائیں کندھے پر جمع کر دے اور طواف کی ابتداء کرتے وقت تلبیہ کہنا چھوڑ دے۔۱؎

    اس کے بعد طواف کرنے والا آئندہ آنے والی دعاؤں میں مشغول ہو جائے۔

    (۲)جب چادر کو کندھے پر ڈال لے تو بیت اللہ شریف کی دا ئیں جانب حجر اسود کے قریب کھڑا ہو جائے لیکن اس سے کچھ دور رہے تاکہ حجر اسود اس کے سامنے رہے۔ اپنے اور بیت اللہ شریف کے درمیان تین قدموں کا فاصلہ رکھے تاکہ بیت اللہ شریف کے قریب ہو کیونکہ یہ افضل ہے تاکہ وہ شاذروان (یعنی دیوار کے پایہ کے ساتھ عرض میں چھوڑے ہوئے حصے)کے اندر طواف کرنے والا نہ ہو کیونکہ وہ بیت اللہ کا حصہ ہے اور حجر اسود کے پاس شاذروان زمین سے ملی ہوئی ہے اور اس میں طواف کرنے والے کا طواف صحیح نہیں ہوتا کیونکہ وہ شخص بیت اللہ شریف کے اندر طواف کرنے والا شمار ہوتا ہے پھر اسی جگہ سے طواف کا آغاز کرے۔

(۳)حجر اسود سے گزرنے سے پہلے بلکہ طواف کے شروع میں پڑھے:
بِسْمِ اللہِ وَ اللہُ اَکْبَرُ،اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًا

بِکَ، وَتَصْدِیْقًابِکِتَابِکَ،وَوَفَاءً بِعَہْدِکَ،وَاِتِّبَاعًالِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع،
۱؎:احناف کے نزدیک:''ان (یعنی قارن اورمفرد) کی لَبَّیْک دسویں تاریخ رمئ جمرہ کے وقت ختم ہوگی ۔'' (بہارشریعت، طواف کے مسائل ،حصہ۶،ص۴۵)
Flag Counter