| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
صَبْر اورصرف صَبْرہی کرنا چاہئے کہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے صَبْرکرنے والوں کے لئے ڈھیروں ڈھیر اَجر رکھا ہے۔اللہُ باری عَزَّوَجَلَّ نے ہر دشواری کے ساتھ آسانی بھی رکھی ہے ، چُنانچِہ پارہ 30 سُورَۂ اَ لَمْ نَشْرَحْ کی آیت نمبر5 اور6 میں ارشادِ ربّا نی ہے:
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۙ﴿۵﴾اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ﴿۶﴾
ترجمۂ کنزالايمان :تو بیشک دُشواری کے ساتھ آسانی ہے، بیشک دُشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ (پ 30 الم نشرح 5۔6)
خُدا، جَزا اور سزا کا انکار
سُوال:ایک شخص نے کہا:خالِق ،مالِک،زندگی،مَوت ،جَزاوسَزا بس سب یوں ہی ایک سوچ ہے۔ اِس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب:کہنے والا اگر مسلمان تھا تو کافر ومُرتد ہو گیا۔ اس قو لِ بد تراز بول میں ربِّ وَدُودعَزَّوَجَلَّ کے وُجُود کا اِنکار ہے جو کہ بد ترین کُفْر ہے۔ نِیز اِس میں موت اور جَزا وسَزا کا بھی انکار ہے اور یہ بھی صَریح کُفْریات ہیں۔