| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب تک آسائشیں ملتی ہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے خوش رہتے ہیں مگر جُوں ہی روزی میں تنگی وغیرہ کے ذَرِیْعے آزمائشیں آتی ہیں تو اُول فُول بکنے اورخدا کی پناہ !اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بُرا بھلا کہنے لگتے ہیں جیسا کہ پارہ 30 سُورَۃُالْفَجْرکی آیت نمبر15 اور 16 میں اللہ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
فَاَمَّا الْاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکْرَمَنِ ﴿ؕ15﴾وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزْقَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَھَانَنِ ﴿ۚ16﴾
ترجمۂ کنزالايمان:لیکن آدمی تو جب اُسے اُسکا رب(عَزَّوَجَلَّ)آزمائے کہ اِس کو جاہ اورنعمت دے جب تو کہتا ہے:میرے رب (عَزَّوَجَلَّ)نے مجھے عِزَّت دی اور اگر آزمائے اور اسکا رِزق اس پر تنگ کرے تو کہتا ہے : میرے رب (عَزَّوَجَلَّ)نے مجھے خوار کیا۔ (پ 30سورۃُ الفَجر 15،16)
دُشواری کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے
اگر بیماری ، بے رُوزگاری یا کسی طرح کی دشواری کا سامنا ہو تو صَبْر ،