Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
94 - 692
 چاہے لاکھ حاجی نمازی ہو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ کی آگ میں جلنا پڑے گا ۔ صَحابۂ کرام علیھم الرضوانقَطعی(قَطْ۔عی)جنّتی ہونے کے باوُجُود خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہا کرتے تھے۔ چُنانچِہ تین صَحابهٔ کرام علیھم الرضوان کے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ میں ڈوبے ہوئے عبرت انگیز ارشادات مُلاحَظہ ہوں:
(1)کاش میں مَینڈھا ہوتا
اسلام کے عظیم سِپَہ سالار حضرتِ سیِّدُنا ابوعُبیدہ بن جَرّا ح ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہیں حُضُور سراپا نور ، فیض گَنجور، شاہِ غَیُور ، صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِس اُمّت کاامین فرمایا۔اپنے بارے میں کہا کرتے تھے:کاش میں مَینڈھا ہوتا، میرے گھر والے مجھ کو ذَبح کر لیتے ، میرا گوشت کھا لیتے اورشَوربہ پی لیتے۔
(الزھد للامام احمد بن حنبل ص203)
اللہ ُرَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2) کاش!میں راکھ ہوتا
حضرتِ سیِّدُناعِمران بن حُصَیْن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں
Flag Counter