چاہیں پھینک پھینک کر پاٹ دیں کہ اس کی بدبُو سے اِیذانہ ہو۔ یہ اَحکام ان سب (مُرتَدین)کے لئے عام ہیں۔ اور جو جواُن میں نِکاح کئے ہوئے ہوں ان سب کی جَو رُوئیں (یعنی بیویاں)ان کے نِکاحوں سے نکل گئیں اب اگرقُربَت ہوگی حرام حرام حرام و زِنائے خالِص ہو گی اور اِس سے جو اولاد پیدا ہو گی وَلَدُالزِّنا ہوگی۔ عورَتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عِدَّت گزرجانے پر جس سے چاہیں نِکاح کر لیں۔ ان (مُرتَدین )میں جسے ہدایت(نصیب)ہو اور(وہ) توبہ کرے اور اپنے کفر کااقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو، اُس وَقت یہ اَحکام جو اس کی موت سے متعلِّق تھے مُنتہَی (یعنی ختم)ہوں گے، اور وہ مُمانَعَت جو اُس مَیل جُول کی تھی جب بھی باقی رہے گی، یہاں تک کہ اس کے حال سے صِدقِ نَدامت وخُلوصِ توبہ و صحّتِ اسلام ظاہِرو روشن ہو مگر عورَتیں اس سے (یعنی مُرتَدشوہر کے توبہ و تجدیدِ ایمان کر لینے کے باوُجُود)بھی نِکاح میں واپَس نہیں آ سکتیں ، انھیں اب بھی اختیار ہو گا کہ چاہیں دوسرے سے نِکاح کر لیں یا کسی سے نہ کریں، ان پرکوئی جَبر نہیں پہنچتا ۔ہاں ان (عورَتوں)کی