Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
91 - 692
 کے برقرار رکھا وہ کافِر مُرتد ، جس جس کی نگرانی میں تیّار ہوا وہ کافِر مُرتد ،طَلَبہ میں جو کلمہ گو تھے اور اُنھوں نے بخوشی اس ملعون عبارت کا ترجَمہ کیا اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے یا اسے ہلکا جانا یا اس کو اپنے نمبرگَھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا وہ سب بھی کافِر مُرتَد،بالِغ ہوں خواہ (سمجھدار )نابالِغ،ان چاروں فریق میں ہرشخص (چُونکہ مُرتَد ہو چکا ہے لہٰذا اُس )سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، مَیل جُول حرام، نِشَست و برخاست حرام ، بیمار پڑے تو اُس کی عِیادت کو جانا حرام، مَر جائے تو اس کا جنازہ اُٹھانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورِستان(یعنی قبرِستان)میں دفن کرنا حرام، مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حرام، اسے مٹّی دینا حرام، اِس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام بلکہ خودقاطِعِ اسلام (یعنی مُرتد کو ایصالِ ثواب کرنا کفر)جب ان میں کوئی مر جائے اُس کے اَعِزّہ اَقرِبا مُسلمین اگر حکمِ شرع مانیں تو اس کی لاش دَفعِ عُفُونت (یعنی بدبو سے نَجات)کے لئے مُردار کُتّے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹَھیلے میں اُٹھواکر کسی تنگ گڑھے میں ڈلوا کر اُوپر سے آگ پتّھر جو