جواب:قربانی کا جانور ہو یا عام ذبیحہ، قاعِدہ یہ ہے کہ مسلمان کا ذَبح کردہ گوشت ذَبح سے لیکر کھانے تک ایک لمحے کیلئے بھی مسلمان کی نظر سے اَوجھل ہو کر اگر مُرتَد یا غیر کتابی کافِرکے قبضے میں نہ گیا ہو تو اُس کا کھانا حلال ہے ورنہ حرام۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں:''اگر وقتِ ذبح سے وقتِ خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا ،جائز اور کھانا حلال ہوگا۔''
مُرتَدبیٹا، باپ کی وِراثت کا حقدار ہے یا نہیں؟
سُوال:اگر بیٹا مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ مُرتَدہو گیا ہو تو وہ اپنے باپ کی وفات کے