Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
76 - 692
   مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت (یعنی کرسچین ہونے)پر مطلع نہ تھے اور بربِنائے علمِ سابِق (پچھلی معلومات کے سبب)اسے مسلمان سمجھتے تھے نہ اس کی تجہیز وتکفین ونَماز تک اُن کے نزدیک اس شخص کا نصرانی(کرسچین)ہوجانا ثابت ہوا، توان اَفعال میں وہ اب بھی معذور وبے قُصُور ہیں کہ جب اُن کی دانِست(معلومات)میں وہ مسلمان تھا، اُن پر یہ اَفعال بجالانے بَزُعْمِ خود شرعاً لازم تھے، ہاں اگر یہ بھی اس کی عیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز وتجہیز وتکفین کے مُرتکب (مُر۔تَ ۔ کِب )ہوئے قطعاً سخت گنہگار اور وبالِ کبیرہ میں گرفتار ہوئے، جب تک توبہ نہ کریں نماز ان کے پیچھے مکروہ۔مگرمُعامَلۂ مُرتَدین پھر بھی برتنا جائز نہیں کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں گے۔ ہماری شَرعِ مُطَہَّر صراطِ مُستقیم ہے، اِفراط وتفریط (یعنی حد اعتدال سے بڑھانا گھٹانا)کسی بات میں پسند نہیں فرماتی، البتّہ اگر ثابت ہو جائے کہ اُنہوں نے اُسے نصرانی جان کر نہ صرف بوجِہ حَماقت وجَہالت کسی غَرَضِ دُنیوی کی نیّت سے بلکہ خوداسے بوجہِ نصرانیّت مستحقِ تعظیم وقابل تجہیز وتکفین ونَمازِ جنازہ