| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ھُمْ فِیۡھَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۱۷﴾
ترجمۂ کنزالايمان:اورتم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے توان لوگوں کا کیا اکارت گیادنیا اور آخِرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔ (پ 2البقرۃ 217)
کُفْر بکنے والے کی ہاں میں ہاں ملانے والے کا حکم
سُوال:کفر بکنے والے کی ہاں میں ہاں ملانے والے کے بارے میں کیا حکمِ شرعی ہے؟
جواب:اگر فِقہی و لُزومی کفر بکا ہے تو بکنے والا اور ہاں میں ہاں ملانے والا اسلام سے خارِج نہ ہوئے اور سابِقہ نیک اَعمال بھی برباد نہ ہوئے۔ البتّہ توبہ و تجدید ِایمان فرض ہے اور بیوی والے کو تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گاالبتّہ بِلا اِکراہِ شَرعی ہوش و حَواس میں صریح کُفر بکنے والا ، ایسے ہی صریح کلمهٔ کفر کے معنیٰ سمجھنے کے باوُجود ہاں میں ہاں ملانے والا اور تائید میں سرہِلانے والا بھی کافِر و مُرتد