جواب:جی ہاں۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ182صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ9 صَفْحَہ174تا175پر صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:جو شخص مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ مُرتَد ہو گیا تو مُستَحَب ہے کہ حاکمِ اسلام اُس پر اسلام پیش کرے اور اگر وہ کچھ شُبہ بیان کرے تو اُس کا جواب دے اور اگرمُہلَت مانگے تو تین دن قید میں رکھے اور ہر روز اسلام کی تلقین کرے ۔یوہیں اگر اُس نے مُہْلَت نہ ما نگی مگر امّید ہے کہ اسلام قَبول کر لے گا جب بھی تین دن قید میں رکھا جائے۔ پھر اگر مسلمان ہو جائے فَبِہا(یعنی بَہُت بہتر)ورنہ قتل کر دیا جائے۔ بِغیر اسلام پیش کیے اُسے قتل کر ڈالنا مکر وہ ہے۔
(دُرِّمُختار ج6 ص 346۔349)