Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
68 - 692
کیا مُرتَد کو ہرکوئی قَتل کر سکتا ہے؟
سُوال: کیا مُرتَد کو ہرکوئی قتل کر سکتا ہے؟
جواب:جی نہیں۔ یہ صرف بادشاہِ اسلام کا کام ہے ۔ چُنانچِہ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:مُرتَد کو قید کرنا اور اسلام نہ قبول کرنے پر قتل کر ڈالنا بادشاہِ اسلام کا کام ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایسا شخص اگر زندہ رہا اور اس سے تَعَرُّض نہ کیا گیا (یعنی روک ٹوک نہ کی گئی )تو ملک میں طرح طرح کے فساد پیدا ہو نگے اور فتنہ کا سلسلہ روز بروز ترقّی پذیر ہو گا، جس کی وجہ سے اَمْنِ عامّه میں خَلل پڑیگا ، لہٰذا ایسے شخص کو ختم کر دینا ہی مُقتَضائے حکمت(یعنی مَصلَحت کا تقاضا)تھا۔اب چُونکہ حکومتِ اسلام ہندوستان میں باقی نہیں،کوئی روک تھام کرنے والا باقی نہ رہا، ہر شخص جو چاہتا ہے بکتا ہے اور آئے دن مسلمانوں میں فَساد پیدا ہوتا ہے، نئے نئے مذہب پیدا ہوتے رہتے ہیں، ایک خاندان بلکہ بعض جگہ ایک گھر میں کئی مذہب ہیں اور بات بات پر جھگڑے لڑائی ہیں، ان تمام خرابیوں کا
Flag Counter