| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہِل پر سخت حرام ہے کہ فتویٰ دے ۔ ہاں اگر عالِم سے اِتِّفاقاً سَہو(بھول) واقِع ہوا اور اُس نے اپنی طرف سے بے اِحتِیاطی نہ کی اور غَلَط جواب صادِر ہوا تو مُواخَذَہ(مُ۔آ۔خَ۔ذَہ)نہیں مگر فرض ہے کہ مُطَّلع ہوتے ہی فوراً اپنی خطا ظاہِرکرے، اِس پر اِصرار کرے تو پہلی شِق یعنی اِفتراء (جھوٹ باندھنا)میں آ جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاوٰی رضویہ ج23 ص711،712)
جاہل سے مسئلہ پوچھنا کیسا؟
سُوال:جان بوجھ کر کسی جاہل سے مسئلہ پوچھنا کیسا؟
جواب: گناہ ہے۔تاجدارِ رسالت، محبوبِ ربُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ سراپا عبرت ہے:
مَنْ اَفْتیٰ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمُہُ عَلیٰ مَنْ اَفْتَاہُ.
''یعنی جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔''
(سُنَنُ اَ بِی دَا ٗود ج3 ص449 حدیث 3657 )