میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ 716 پر فر ماتے ہیں:سند حاصِل کرنا تو کچھ ضَرور نہیں، ہاں باقاعِدہ تعلیم پانا ضَرور ہے(تعلیم خواہ) مدرَسہ میں ہو یا کسی عالِم کے مکان پر۔اور جس نے بے قاعِدہ تعلیم پائی وہ جاہِلِ مَحض سے بدتر ،'' نِیم مُلّا خطرۂ ایمان'' ہو گا۔ ایسے شخص کو فتویٰ نَوِیسی پر جُرأَت حرام ہے۔اور اگر فتویٰ سے اگر چِہ صحیح ہو،(مگر) وجہُ اللہ مقصود نہیں(یعنی دُرُست فتویٰ ہو تب بھی اگر اللہ کی رِضا مطلوب نہیں) بلکہ اپنا کوئی دنیاوی نفع منظور ہے تو یہ دوسراسَبَبِ لعنت ہے کہ آیاتُ اللہ کے عِوَض ثَمَنِ قَلیل(یعنی شعَزَّوَجَل کی آیتوں کے بدلے تھوڑا بھاؤ) حاصِل کرنے پر فرمایا گیا :