Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
62 - 692
فرماتے ہیں :ہمارے ائمّہ رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی کلام میں 99 اِحتِمال کُفرکے ہوں اور ایک اسلام کا تو واجِب ہے کہ احتِمالِ اسلام پر کلام محمول کیا جائے جب تک اس کا خِلاف ثابِت نہ ہو۔
 (فتاوٰی رضویہ ج14ص604،605)
 صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّريقہ حضرتِ علامہ مَولانامُفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُاللہِ القوی فرماتے ہیں:کسی کلام میں چند معنے بنتے ہیں بعض کفر کی طرف جاتے ہیں بعض اسلام کی طرف تو اُس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی ہاں اگر معلوم ہو کہ قائل(کہنے والے)نے معنئ کفر کا ارادہ کیا مَثَلاً وہ خود کہتا ہے کہ میری مُراد یہی(کفریہ معنی والی)ہے تو (اب )کلام کا مُحْتَمَل(مُحْ۔تَ۔مَل) ہونا (یعنی کلام میں تاویل کا پایا جانا)نفع نہ دیگا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کلمہ کے کفر ہونے سے قائل کا کافِر ہونا ضَرور نہیں۔
    ( بہارِ شریعت حصّہ 9 ص 173 )
بِغیر عِلم کے فتوٰی دینا کیسا؟
سُوال:جو مفتی نہ ہونے کے باوُجُود بِغیر علم کے فتویٰ دے اُس کیلئے کیا حکم
Flag Counter