جواب:جب کسی بات کیكُفْر ہونے کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو مَثَلاً کسی مفتی صاحِب نے بتایا ہو یا کسی مُعتبر کتاب مَثَلاً بہارِ شریعت یا فتاوٰی رضویہ شریف وغیرہ میں پڑھا ہو تب تو اُس کُفری بات کو کُفر ہی سمجھے ورنہ صِرف اپنی اٹکل سے ہرگز ہرگز ہرگز کسی مسلمان کو کافر نہ کہے۔ کیوں کہ کئی جُملے ایسے ہوتے ہیں جن کے بعض پہلو کُفْر کی طرف جا رہے ہوتے ہیں اوربعض اسلام کی طرف اور کہنے والے کی نیّت کا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اُس نے کون سا پہلو مُرادلیا ہے۔ميرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دين وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرحمٰن